شاور (مانند نیوز ) وضاحتی بیان بابت ایم بی بی ایس تھرڈ پروفیشنل سالانہ و سپلیمنٹری امتحانات سیشن2022 خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو)پشاور شعبہ امتحانات کی جانب سے جاری کردہ ایک وضاحتی بیان میں کہاگیاہے کہ ایم بی بی ایس تھرڈ پروفیشنل سیشن2022 کے سالانہ اور سپلیمنٹری امتحانات کے نتائج کے بارے میں میڈیامیں شائع اور نشر ہونے والی ان اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ ان امتحانات میں طلباء کوبڑی تعداد میں فیل کرکے ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔اس وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم بی بی ایس تھرڈ پروفیشنل سیشن2022 کے سالانہ اور سپلیمنٹری دونوں امتحانات میں مجموعئی طور پر 2118طلباء نے امتحان دیا تھا جن میں 2037کامیاب ہوئے اور81 طلباء ایک یا ذائد پرچوں میں فیل ہوئے جب کہ ان دونوں امتحانات کی کامیابی کا مجموعئی نتیجہ96.20فیصد رہا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ دونوں امتحانات میں فیل شدہ3.80فیصد طلباء میں سے اکثر یعنی34طلباء کاتعلق ایک نجی میڈیکل کالج سے ہے در اصل یہ وہ طلباء ہیں جنہیں پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر ایک دوسرے نجی کالج سے اس کالج میں منتقل کرکے ایڈجسٹ کیاگیا تھا۔یاد رہے کہ اس نجی میڈیکل کالج کا سالانہ اور سپلیمنٹری امتحانات کا مجموعئی نتیجہ 73.60رہا ہے جب کہ صوبے کے باقی تمام پبلک اور پرائیویٹ میڈیکل کالجز کا الگ الگ نتیجہ96فیصد سے بھی اوپر آیاہے۔یہاں اس امرکی وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ یم بی بی ایس تھرڈ پروفیشنل سیشن2022 کے مذکورہ سالانہ اور سپلیمنٹری دونوں امتحانات کا نتیجہ سیشن2021کے دونوں امتحانات کے برعکس کافی بہتر آیاہے۔دریں اثناء خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلرنے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ امتحانی نتائج کی تیاری اور امتحانی نظام میں شفافیت کے ایم یو کا طرہ امتیاز ہے اوریونیورسٹی کے امتحانی نظام پر نہ تو کبھی کمپرومائیز کیاگیا ہے اور نہ ہی اس کا سوال پیدا ہوتاہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات،ایڈیشنل کنٹرلر امتحانات اور ان کی ٹیم اور ممتحمین کے کردار اور محنت کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ طبی تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر اپنی محنت مستقبل میں بھی اسی جوش اور جذبے سے جاری رکھیں گے اورمیرٹ اورشفافیت کے کلچر کو فروغ دینے میں کسی مصلحت اور دباؤ کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ #