پشاور( مانند نیوز)ڈسٹرکٹ سوشل ویلفئیر آفیسر مردان جمال شاہ مہمند نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ انسانی معاشرے کی ترقی خواتین کے تعمیری کردار کے بغیر ممکن نہ تھی، انسان اگر اپنے اردگرد نگاہ دوڑائے تو خاتون کا ہر روپ اسے معاشرے کا ایک کار آمد رکن بنانے میں مصروف نظر آتا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان میں غیر سرکاری تنظیم سائبان ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن مردان کے زیر اہتمام اور آکسفیم کینڈا کے تعاون سے ڈبلیو وی ایل پراجیکٹ اور جی ایل پی پروگرام کے تحت خواتین کی پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کررہے تھے تربیتی ورکشاپ میں حلال فوڈ اتھارٹی مردان ٹیم کے فوڈ سیفٹی آفیسرز زبیر علی اور وقاص محمود نے خواتین کو گھریلو پیمانے پر پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ کرنے کا ہنر سکھایا، تربیتی کورس میں خواتین کو پھلوں اور سبزیوں کی طبی افادیت،ان سے جام، سکوائش، چٹنیاں، کیچپ، اچار، جیلی، مربہ جات اور دیگر مشروبات بنانے کے بارے میں تربیت دی۔جینڈرلیڈرشپ پروگرام کی پراجیکٰٹ کوار ڈینٹر نگہت سیما نے کہا کہ اس کورس کا مقصد خواتین کو گھریلو پیمانے پر پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ کرنے کا ہنر سکھانا ہے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت مقام حاصل کر سکیں اور مسائل کے حل کیلئے خواتین کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ہے۔تقریب سے سائبان ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن مردان کے محمد عارف نے حلال فوڈ اتھارٹی مردان ٹیم کے فوڈ سیفٹی آفیسرز زبیر علی اور وقاص محمود کا شکریہ اداکیا،مقررین نے کہا کہ موجودہ انسانی معاشرہ خواتین کی ہر شعبے میں خدمات کی مثالوں سے بھرا پڑا ہے.دنیا میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ انسانی تہذیب کی ترقی میں مصروفِ عمل ہیں. آج کسی بھی شعبے کو اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو خواتین اپنی گھریلو ذمہ داریوں کی احسن طریقے سے انجام دہی کے ساتھ ساتھ ہر شعبے میں قائدانہ کردار میں نظر آئیں گی جو خوش آئند امر ہے،انہوں نے کہا کہ خواتین کو مزید با اختیار، انکے تحفظ اور منصفانہ حقوق کو یقینی بنانے کیلئے پورے معاشرے کو مل کر کام کرنا ہوگا،خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے لازمی ہے کہ انھیں نہ صرف تمام حقوق دئییجائیں بلکہ لڑکوں کی طرح لڑکیوں کی تربیت سازی اور تعلیم کے لئے مواقع فراہم کئے جائیں عورتوں کے با اختیار ہونے سے ملک کی معاشی و اقتصادی صورتحال بھی بہتر ہو سکتی ہیآخرمیں تربیتی ورکشاپ میں حصہ لینے والے خواتین میں فوڈ کٹس بھی تقسیم کئے گئے