وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان تحصیل شکئی میں انٹرنیٹ سروس کی بندش کے خلاف شکئی برگیڈ کے سامنے اختجاجی دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔ دھرنے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ پورا مہینے سے تحصیل شکئی میں انٹرنیٹ سروس 3G4G معطل ہے، جس سے علاقے کے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ اور مقامی لوگوں کا کاروباری سرگرمیاں انٹرنیٹ سروس نہ ہونے کی وجہ ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں، اس کے ساتھ یہاں کے لوگ زیادہ تر پردیس میں رہتے ہیں پردیس میں رہنے والوں کی اپنے پیاروں سے پچھلے ڈھائی ماہ سے رابطے منقطع ہیں۔ اس جدید دور میں جنوبی وزیرستان تحصیل شکئی کے ہزاروں لوگ انٹرنیٹ سروس سے محروم ہیں۔ دھرنے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ گزشتہ آئی جی ایف سی ساؤتھ نے جنوبی وزیرستان کے مشران کو یقین دہانی کرائی گئی تھی ، کہ وزیرستان میں انٹرنیٹ سروس فعال ہونگے، لیکن بدقسمتی سے اس پر عمل نہیں ہوا ، دھرنے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ حکومت ہم سے سوتیلہ سلوک کیا جا رہا ہے، ہم بھی پاکستانی شہری ہے اور ہمیں پاکستان کے باقی شہریوں کی طرح حق رکھتے ہیں، ہمیں اپنے قانونی اور آئینی حق دی جائیں اور انٹرنیٹ سروس کو جلد از جلد بحال کیا جائے۔ دھرنے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ سروس ہماری قانونی اور آئینی حق ہے، کہ حکومت کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ تحصیل شکئی کے علاقوں میں انٹرنیٹ سروس3G4G کو فوری طور پر بحال کیا جائے، مزید ہم نے نہیں چاہتے کہ کوئی ہمیں اپنے آئینی حقوق سے محروم رکھیں ہم آئین اور قانون کی دائرہ اختیار میں رہ کر اپنے جائز حقوق مانگ رہے ہیں لہذا ہمیں اپنی آئینی اور قانونی حقوق دے ورنہ ہم قانونی جنگ لڑینگے ہم اپنی حقوق حاصل کرنے کیلئے ہر محاذ پر لڑے ینگے۔شکئی دھرنے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز دھرنے سے علاقے میں موبائل فون سروس بحال , امید ہے کہ جلد انشاء اللّٰہ انٹرنیٹ سروس بحال ہو جائیں گے ۔ واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان لوئر میں شکئی سمیت علاقہ میں انٹرنیٹ معطل ہیں۔ جس سے عوام کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت کے بار بار یقین دہانیوں کے باوجود کچھ نہ ہو سکا۔