پشاور( مانند نیوز) آبادی کے وسط اور ملاکنڈ روڈ پر واقع کرش پلانٹ سیتحصیل تخت بھائی کے یونین کونسل سری بہلول خطرناک آلودگی کا شکار،علاقے میں دمے اور دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں انتہائی اضافہ، سری بہلول کے مکینوں نے محکمہ ماحولیات اور ڈپٹی کمشنر مردان سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقہ میں ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے لئے کرش پلاٹ کو باہر اور موزوں جگہ پر منتقل کرنے کے حوالے سے ہرممکن اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے کہاکہ کرش پلانٹ شہری حدود اور آبادی کے قرب و جوار میں ہو تو اس سے نہ صرف ماحول کے مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ اس کے انسانی صحت پر بھی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کرشنگ پلانٹ سے نکلنے والی گرد شہر کو آلودہ کر رہی ہے، تخت بھائی میں چلنے والی ہواؤں کے ساتھ کرشنگ پلانٹ سے نکلنے والی گرد بھی شامل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے شہر کی فضا میں دن اور رات کے اوقات میں گرد وغبار رہتی ہے، انہوں نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ تمام متعلقہ محکموں کے مشاروت اور تجاویز سے کرش پلا نٹ کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرے گی،پمز ہسپتال اسلام آباد کے ڈاکٹر ایمل خان مہمند کے مطابق کرش مشینوں کے چلنے سے پیدا ہونے والے گردوغبار کی وجہ سے دمے کی بیماری پھیلتی ہیں۔ ”سی او پی ڈی“ جو دائمی سانس کی تکلیف ہے اور یہ سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتی ہے تاہم کرش پلانٹ کے گردوغبار کی وجہ سے نان سموکنگ انسان کو ”سی او پی ڈی“ لاحق ہو سکتی ہے،انہوں نے کہا کہ کرش پلانٹ کے کیمیکل اوزون کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں جس سے ماحول متاثر ہو رہا ہے۔ ماحولیات پر کام کرنے والے ادارے اور غیرسرکاری تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کرش پلانٹس سے نکلنے والا گردوغبار اور دھند ماحول کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس سے قریبی آبادی کے مکین زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔