جمرود(نمائندہ مانند)قبائلی عوام کے لئے بیرونی ممالک سے منظور شدہ امداد سے بھی حکمران،ادارے اوربیوروکریسی مستفید ہورہے ہیں قبائلی عوام اور بلدیاتی نمائندگان کے لئے مخصوص چیزیں دینا اور وہ بھی لاٹری پریہ مذاق بند کی جائے۔ متحدہ آزادپینل جمرودتفصیلات کے مطابق ضلع خیبرتحصیل جمرودکے متحدہ آزادپینل کے صدر وچیئرمین این سی 2جمرود شاہدخان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز قبائل لیڈ ڈیویلپمنٹ پروگرام (QLDP)کے تحت جمرود جرگہ ھال میں ضلع خیبر کے ویلج کونسلز کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو فی ویلج کونسل کو لاٹری کے ذریعے ایک ایک عدد واٹر کولر، سلائی مشین، سولرمیرر اور پانی کی ٹینکی یعنی ایک ویلج کونسل کے لئے صرف ایک چیز،وہ بھی لاٹری کے ذریعے یہ وہ آخری مذاق کا تھا جو قبائلی عوام اور پھر بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ کیا گیا، تاریخ گواہ ہے کہ قبائلی عوام پر اور قبائلی علاقوں کے ترقی پر اگر پیسہ خرچ ہوا ہے وہ پاکستانی روپیہ نہیں بلکہ UNOامریکہ اور اس طرح دیگر ممالک نے امداد دے کر قبائل کے فلاح و بہبود کا سوچا ہے ناکہ اپنے حکمرانوں نے۔بدقسمتی سے قبائل کے نام پر پرائے خیرات میں بھی ہمارے حکمران،ادارے،بیوروکریسی اپنا حصہ وصول کرتے ہیں،اپنے لئے بڑے بڑے دفتر جنکا ماہانہ کرایہ لاکھوں میں ہوتا ہے قیمتی فرنیچرز،بڑی بڑی گاڑیاں اور اس طرح دیگر عیاشیوں کے نظر ہوجاتے ہیں غیر ملکی فنڈز جس میں قبائل کو کچھ نہیں ملتا آخر میں دنیا کو دکھانے کے لئے قبائلی عوام کا کچھ اس طرح مذاق اڑا کر دیکھایا جاتا ہے کہ قبائلی عوام کے فلاح و بہبود پر کام ہو رہا ہے حالانکہ حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ 9/11 کے بعد قبائل کے نام پر جتنے فنڈز باہر سے آئیں ہیں اگر یہ فنڈز قبائلی عوام کے مشورے سے اور صحیح طریقے پر خرچ ہوتے تو آج قبائلی علاقوں کا نقشہ ہی تبدیل ہوتاانہوں نے کہا کہ قبائلی عوام اور قبائلی بلدیاتی نمائندگان دنیا سے یورپی یونین اور خلیجی ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قبائلی عوام کے نام پر دیئے گئے ایک ایک پیسے کا احتساب کیا جائے اور آئندہ قبائلی عوام کے نام پر اگر فنڈز دیئے جاتے ہیں تو قبائلی عوام اور ان کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ مشاورت سے خرچ کئے جائیں نا کہ بند کمروں میں بیوروکریٹس کے ساتھ مشاورت سے،آئندہ قبائلی عوام اور قبائلی بلدیاتی نمائندگان کے بغیر حکمرانوں،اداروں اور بیوروکریسی کے ساتھ مشاورت کی ہم شدید مخالفت کرینگے۔