پشاور(مانند نیوز) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا و ڈائریکٹر نیشنل ایسوسی ایشن فار ایجوکیشن (نافع) پاکستان پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ حکومت آئین اور عدالتیں اردو کے نفاذ کے اپنے فیصلوں کی خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ہیں۔ آئین میں درج ہے کہ یومِ آغاز سے پندرہ سال کے اندر اردو کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا، سپریم کورٹ نے بھی حکم جاری کیا ہے کہ تمام امور اردو میں نمٹائے جائیں لیکن آج بھی دفتری زبان انگریزی ہے۔ پاکستان کی ترقی میں اردو نہیں بلکہ انگریزی رکاؤٹ ہے۔ سپریم کورٹ میں بھی صرف جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس دوست محمد نے کئی فیصلے اردو میں لکھے، لیکن ان کے بعد کسی بھی عدالت میں اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔پاکستان کی پارلیمنٹ کی ساری کاروائی بھی انگریزی میں ہوتی۔ سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی اکثریت انگریزی سے نابلد ہیں۔سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں ذریعہ تعلیم اردو ہوگی تو کئی علوم کا احاطہ کیا جاسکتا ہے۔ انگریزی کی غلامی میں اردو کی صورت بگڑ رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں یومِ نفاذ اردو کے موقع پر نافع کے زیر اہتمام اردو کی ترویج میں معلم کا کردار کے عنوان سے منعقدہ تعلیمی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرپرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ اتھارٹی (پیرا) کی چیئر پرسن ڈاکٹر سیدہ ضیاء بتول، نافع شمالی پنجاب کے ریجنل ڈائریکٹر افتخار علی حیدر، سعید الرشید عباسی اور دیگر بھی موجود تھے۔پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ اردو رابطے کی زبان اور ہماری ضرورت ہے۔ اردو نہ صرف صوبوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے بلکہ صوبوں کے اندر بھی رابطے کی زبان اردو ہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی جج فیصلے تو انگریزی میں کرتے ہیں لیکن ان کی انگریزی بھی معیاری انگریزی نہیں ہے۔ مقدمات کے فیصلے ہورہے ہیں لیکن نہ مدعی اور نہ مدعا علیہ کو کچھ سمجھ آتی ہے۔ اس وجہ سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہورہے۔ انھوں نے کہا کہ مقابلے کے امتحانات صرف انگریزی میں لیے جا رہے ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کہتا ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسا سافٹ وئیر نہیں ہے جس کی مدد سے انگریزی زبان کے مترادفات کو اردو میں منقتل کیا جاسکے۔ مقتدرہ قومی زبان اس پر کام کرچکی ہے لیکن حکومت کی اس میں دلچسپی نظر نہیں آ رہی۔ حکومت مقابلے کے امتحانات میں اردو کی اجازت دے۔ انھوں نے کہا کہ اردو کو اگر سرکار کی زبان بنایا جائے تو پاکستان ترقی کرے گا۔ انگریزی کو پہلے برطانیہ اور اب امریکہ کی سرپرستی حاصل ہے اس لیے وہ ترقی کے بام عروج پر ہے، اردو کو بھی سرپرستی حاصل ہوجائے تو یہ آگے بڑھ سکتی ہے۔اردو کے ذریعے ہماری ترقی میں پیش رفت ہوسکتی ہے اور دنیا کی قوموں میں ترقیافتہ قوم کی حیثیت حاصل کرسکتے ہیں۔ انھوں نے عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اردو کی سرپرستی کی جائے اور مقابلے کے امتحانات اردو میں لیے جائیں۔