وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر پاک افغان بارڈر انگوراڈا گیٹ پر کاروبار کرنے والوں تاجروں نے اپنا کاروبار خرلاچی، غلام خان اور دیگر بارڈرز پر منتقل کرنا شروع کیا، جس سے لوئر وزیرستان میں سینکڑوں افراد بے روزگار ہوئیں، حکومت پاک افغان بارڈر انگوراڈا گیٹ پر کاورباری حضرات کی مشکلات ختم کرنے کی بجائے اس میں مزید اضافہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ وزیرستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری جنوبی وزیرستان کے صدر سیف رحمن وزیر نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 18 مہینوں سے پاک افغان بارڈر انگوراڈا گیٹ پر تجارت تعطل کا شکار ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہیں اسی طرح یہاں تجارت سے وابستہ افراد کا کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہیں، مگر حکومت اس اہم مسلے پر لعت ولعل سے کام لیں رہا ہے صدر سیف رحمن وزیر نے کہا کہ کاروباری حضرات کی صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہیں، آئے روز مقامی انتظامیہ اور دیگر سیکورٹی ادارے وعدے کرکے پھر نظر سے اوجھل جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معشیت والینٹر پر کھڑی ہے ہمارے حکمران معشیت ٹیھک کرنے کے بجائے مزید خراب کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو آدمیوں کی وجہ سے پاک افغان بارڈر انگوراڈا گیٹ پر تجارت زیرو پر آگیا آخر وہ کونسی عوامل ہیں کہ حکومت دو آدمیوں کو گرفتار نہیں کر سکتے۔ صدر سیف رحمن وزیر نے مزید کہا کہ اگر حکومت اسی طرح ٹال مٹول سے کام لیا جاتا تو علاقے میں چور ڈاکووں کا راج ہوگا اور علاقے میں مزید بدامنی پھیلنے کا خطرہ بڑھے گا۔ حکومت نے اس مسلے میں مزید تاخیر کی تو دمادمست قلندر شروع کریں گے۔