چترال (مانندنیوز)چترال میں وادی ارکاری کا خوبصورت علاقہ بیستی ایک نہایت سر سبز و شاداب اور سیاحتی حطہ ہے۔ یہاں ہر طرف صاف اور ٹھنڈے پانی کی چشمے بہتے ہیں ارد گرد پہاڑوں پر برف کی سفید چادر نے اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کیا ہوا ہے۔ یہ علاقہ سطح سمندر سے نو ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے یہاں کا موسم نہایت خوشگوار ہے۔ یہاں کے لوگ نہایت محنتی ہیں۔ موسم اتنا ٹھنڈا ہے کہ لوگ جولای اگست میں بھِی رات کو کمرے کے اندر رضای لینا پڑتا ہے۔ اس علاقے میں ابھی خوبانی پک رہے ہیں اور سیب اس ماہ کے آحر میں پک جاییں گے۔اس علاقے میں کافی مقدار می آلو اور دیگر سبزیاں بھِی اگتی ہیں۔ بیستی بالا اور بیستی پایین میں رہنے والے ڈیڑھ ہزار لوگ اس جدید دور میں بھی نیے دور کے تقاضوں کے مطابق سہولیات اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ بیستی میں ابھی تک کوی ہسپتال یا ڈسپنسری تک نہیں ہے۔ اس علاقے میں ہسپتال یا لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگ اور حاص کر خواتین زچگی کے دوران نہایت مشکلات سے دوچار ہوتی ہیں۔ گلگت بلتستان سے ایک خاتون کی شادی اس بستی میں ہوی ہے شبنم بی بی کا کہنا ہے کہ خواتین کیلیے صحت کے سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے زچگی کے دوران جب کسی خاتون کو چترال ہسپتال لے جانا پڑتا ہے تو سڑک کی حرابی کی وجہ سے یا تو وہ خاتون راستے ہی میں بچہ جنم دیتی ہے یا پھر موت کو گلے لگاتی ہے۔شبنم بی بی نے کہا کہ یہاں کی لڑکیاں تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں مگر سرکار کی طرف سے لڑکیوں کیلیے ایک پرایمری سکول تک نہیں ہے اور بچیاں مجبورا لڑکوں کے ساتھ ایک ہی کلاس میں بیٹھ کر محلوط تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں مگر بڑی عمر کی لڑکیاں لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر شرم محصوص کرتی ہیں۔ اس علاقے میں پہلے کوی سکول نہیں تھا۔ معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر میر افضل تاجک ن ڈونیشن پر ایک سکول کی عمارت بنادی اور اسے مقامی لوگوں کو حوالہ کیا مگر یہاں کے لوگ اسے کمیونٹی بیسڈ سکول کے طور پر چلانے میں ناکام ہویے۔اس کے بعد اس سکول کی عمارت کو محکمہ تعلیم کے حوالہ کیا گیا جہاں سرکار نے مڈل سکول قایم کیا مگر اس سکول میں صرف تین اساتذہ ہیں جن میں ایک استاد کا تعلق آیون سے ہے جسے انے جانے میں نہایت مشکلات کا سامنا ہے اور کثر گاڑی نہ ملنے کی وجہ سے وہ ڈیوٹی پر نہیں پہنچ سکتا۔ اس علاقے میں ٹیلیفون، ڈی ایس ایل یا انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے طلباء و طالبات اور نوجوان نسل کا دوسرے علاقوں سے بے خبر ہیں اور ان کا انٹرنیٹ کے ذریعے رابطہ ممکن نہیں ہے۔ اس وادی میں ابھی تک سرکار کی جانب سے بجلی بھی نہیں ہے اور ایک غیر سرکاری ادارے نے یہاں چھوٹا سا پن بجلی گھر بنایا ہے مگر یہ بجلی صرف رات کو فراہم کی جاتی ہے دن کو بجلی نہیں ہوتی۔ اس علاقے کی سڑکیں نہایت حراب ہیں اوران سڑکوں کو مقامی لوگوں نے اپنی مدد اپ کے تحت بنایے ہیں۔ یہاں ہر طرف صاف اور ٹھنڈے پانی کے چشمے نکلتے ہیں مگر یہ پانی زیادہ تر ضایع ہوتا ہے۔ سڑکوں کی حال نہایت حراب ہیں اور دریا، ندی نالوں پر بننے پلوں کی حالت بھی ناگفتہ بہہ ہے۔ وادی بیستی کے لوگ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہاں سڑک، پل، سکول، ہسپتال وغیرہ تعمیر کرکے ان کو بھی بنیادی حقوق اور مواصلات کی سہولیات فراہم کی جایے تاکہ ان کا بھی اس گلوبل ویلیج میں دنیا کے دیگر حصوں سے رابطہ ممکن ہوسکے اور ان کی زندگی میں بھِی اسانیاں پیدا ہو۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے