شانگلہ(مانند نیوز) شانگلہ ایکشن کمیٹی وشانگلہ بار ایسوسی ایشن کے ذریعے اہتمام مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی کا گرینڈ جرگہ، ڈپٹی کمشنر شانگلہ حسین عابد کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ۔ شانگلہ ڈسٹرکٹ مین چوک بلاک کرتے ہوئے وکلا کی زبردست نعرہ بازی۔ ڈپٹی کمشنر شانگلہ عابد حسین چور ہیں سمیت ڈپٹی کمشنر عابد حسین کو شانگلہ سے بھگاؤں چور ہے چور ہے کے سخت نعرہ بازی کی گئی اور کہا گیا کہ شانگلہ میں ڈپٹی کمشنر عابد حسین نے کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ وکلاء،سیاسی جماعتیں و دیگر کا ڈپٹی کمشنر آفس کے گیٹ کے سامنے نھی مظاہرہ۔ان کی شانگلہ میں تعیناتی کے بعد انہوں نے مختلف محکموں سے کٹوتی کر کے کرپشن کاریکارڈقائم کردیا ہے۔ شانگلہ یونیورسٹی کے 8کاٹیجز پر انتظامیہ قابض ہیں۔ محکمہ تعلیم، محکمہ بلدیات، ٹی ایم ایز، محکمہ جنگلات سمیت دیگر محکموں سے فائنانس کے ذریعے پیسے بٹورے گئے اور صرف ٹرانسپورٹ اور مرمت کی مد میں کروڑوں روپے نکالے گئے۔ جرگے سے شانگلہ ایکشن کمیٹی کے صدر جواد علی نور، جنرل سیکرٹری شاہد علی خان،تحصیل بار پورن کے صدر نثار احمد، تحصیل باربشام کے صدر محمد اقبال تحصیل بارچکسر کے صدرنذیر احمد، تحریک انصاف کے رہنماؤ چیئرمین الپوری وقا احمد خان، تحصیل چیئرمین پورن جا جی عبدالمولا، پی ٹی ائی شانگلہ کی ڈپٹی جنرل سیکرٹری حبیب اللہ طوفان، عوامی نیشنل پارٹی کے متوکل خان ایڈوکیٹ، شمس الرحمن، پیپلز پارٹی کے ترجمان غلام اللہ خان، جمیعت علماء اسلام کے امیر قاری زین اللہ،سابق سنیٹر مولانا راحت حسین،جماعت اسلامی کے امیر نجم اللہ،جنرل سیکرٹری غٖفار علی، سابق ناظم شمس الرحمن، چیئرمین ولج کونسل باسی علی باش نے خطاب کرتے ہوئے شانگلہ میں جاری کرپشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ شانگلہ ہم سب کا مشترکہ ہے یہاں باہر سے آنے والے لوگ ہمارے لوگوں کے ایما پر یہاں بے تحا شاکرپشن کرتے ہیں اور یہ ضلع روز بروز پسماندگی طرف جا رہی ہے جس کی تمام تر ذمہ داریاں ہم سب پر ہیں۔انھوں نے واضح کیا کہ اگر شانگلہ سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے تو ہم سب کو ایک پیج پر ہونا ہوگا اور وہ شانگلہ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام ہی ممکن ہے انھوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر شانگلہ پہلے شانگلہ میں ان نے کیے گئے کرپشن کا حساب دیں گے اور بعد میں اس کا تبادلہ یا مذاکرات کیے جائیں گے انھوں نے شروع ہی سے شانگلہ میں بے پناہ کرپشن کی ہیں اور سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ان رہنماؤں نے واضح کیا کہ مزید ان چیزوں کے متحمل نہیں ہو سکتے شانگلہ بار ایسوسی ایشن اور شانگلہ ایکشن کمیٹی کے مشترکہ جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ جون میں ڈپٹی کمشنر شانگلہ نے مختلف مد میں کروڑوں کے فنڈز نکالے ہیں حساب دینا ہوگا۔ تمام سیاسی جماعتوں ایکشن کمیٹی اور بار ایسوسی ایشن نے اگلے اقدامات کے لیے دوبارہ میٹنگ طلب کرنے کی تجویز دیدی۔ شانگلہ بار اور منعقدہ جرگے کے مشترکہ لائے عمل کے بعد شانگلہ ڈسٹرکٹ چوک میں وکلا،سول سوسائٹی اور مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے زیر اہتمام زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر شانگلہ حسین عابدکے خلاف نعرے بازی کی اور مینگورہ الپوری،ا لپوری بشام الپوری لیلونئی شاہراہ کو مکمل طور پر بند رکھا۔ شانگلہ میں وکلا اور ضلع انتظامیہ ڈپٹی کمشنر کے درمیان جاری اس صورتحال پر ڈپٹی کمشنر حسین عابدسے موقف لیا تو انھوں نے واضح کیا کہ وکلا نے بار کے ساتھ سرکاری اراضی پر اٹھ دکانیں بنائی تھی جن کو سیل کر دیا تھا تا ہم اس پر سیشن کورٹ نے سٹے جاری کیا۔ بار میں چار سرکاری ملازمین غیر قانونی کام کر رہے تھے جن کو واپس ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں تعینات کر دیا۔ جس میں دو ڈی سی آفس اور دو ٹی ایم اے کے ہیں۔ بارروم نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے بجلی لگائی تھی اور کنڈا تھا جس کو کاٹ لیا۔ کرپشن کے الزامات پر ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ فنڈزکا اڈٹ ہو چکا ہے۔ تمام تر الزامات غلط قرار دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شانگلہ نے کہا کہ وکلا کو پہلے کرپشن یاد نہیں تھا تا ہم اس پر قانون کے مطابق ہاتھ ڈالا تو ابھی یہ احتجاج اور غلط بیانی پر اتر ائے ہیں۔۔