شانگلہ(مانند نیوز) شانگلہ میں وکلا کا احتجاج مظاہرہ پر ڈپٹی کمشنر شانگلہ حسین عابد نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شانگلہ ڈسٹرکٹ بار کے ساتھ واقعہ سرکاری اراضی پر وکلا نے اٹھ دکانیں بنائی تھی جس کو ضلع انتظامیہ نے سیل کروایا تھاجس پر سیشن کورٹ شانگلہ نے حکم امتنائی جاری کر دی ہیں، وکلا نے معاملہ عدالت میں ہونے کے باوجود دکانوں کے سیل توڑے اس آراضی پر وکلا نے سابق ڈپٹی کمشنر شانگلہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اس پر وکلا کے چیمبر بنیں گے جبکہ انہوں نے دکانیں بنائی ہیں اور اس سے50 ہزار روپے کرایہ وصول کیے جا رہے ہیں جو غیر قانونی اور تجاوزات کے زمرے میں آتے ہیں۔ شانگلہ بار ایسوسی ایشن الپوری کو ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے بجلی فراہم تھی اور کنڈا بھی لگایا تھا تو دونوں کو کاٹ دیا گیا ہیں۔ شانگلہ بار ایسوسی ایشن الپوری میں چار سرکا ری ملازمین تعینات تھے جس میں دو ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے اور دو ٹی ایم اے الپوری کے تھے جن کو ان کی پوزیشن پر واپس کردیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر شانگلہ حسین عابدنے ان پر کرپشن کے الزامات پر کہا کہ جون تک تمام فنڈ کا اڈٹ ہو چکا ہے اور تمام تر ڈاکومنٹیشن موجود ہیں، اس حوالے سے اینٹی کرپشن نیب اور دیگر فرمز موجود ہیں اگر کسی کو شانگلہ میں کرپشن کی کوئی بات نظر آتی ہے تو وہ ہو اس فورم پر رجوع کریں۔ ڈپٹی کمشنر شانگلہ نے تمام تر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کو گزشتہ سات ماہ میں کرپشن نظر نہیں ائی کہ جب ان پر ہاتھ ڈالا گیا تو وہ ہوں اس پر غلط الزامات لگا رہے ہیں۔ ادھر دوسری جانب شانگلہ کے مختلف سرکاری ملازمین نے اپنے احتجاجی اجلاس میں وکلا کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں گالم گلوچ، الزامات بلا جواز ہیں اور اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ڈپٹی کمشنر شانگلہ ا گر کرپشن کرتا ہے تو ہم بھی شانگلہ کے ہیں اور وہ وکلا کی حمایت کرتے ہیں مگر ایسا نہیں ہیں۔۔