پشاور (مانند نیوز ) خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو)پشاورکے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نرسنگ صحت کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور خیبرپختونخوا میں نرسنگ کی تعلیم کے معیار میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار کستان نرسنگ کونسل کے ممبر فضل مولا سے کے ایم یو میں ملاقات کے موقع پر کیا ہے۔ جب کہ اس موقع پررجسٹرار انعام اللہ وزیر، ڈائریکٹر اکیڈمکس اینڈ ایڈمیشن ڈاکٹر ظل ہما، ڈپٹی ڈائریکٹر آف انسپیکشنز، ایفیلیشن اینڈ مانیٹرنگ محمد طیب،ڈاکٹر دلدار محمد ایسوسی ایٹ پروفیسر آئی این ایس اور ڈاکٹر صبیحہ خانم ڈائریکٹر آئی این ایس کے ایم یو بھی موجود تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہاکہ خیبرپختونخوا اور پاکستان میں نرسنگ کی تعلیم کی بہتری اور ترقی میں کے ایم یوقائدانہ کردار اداکررہاہے۔ انہوں نے کہا کہ نرسنگ پروگراموں کے تعلیمی معیار کی نگرانی کے لیے کے ایم یو بہت جلد الحاق شدہ اداروں کے مانیٹرنگ وزٹ کا اہتمام کرے گا۔ اجلاس کے دوران اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ پاکستان نرسنگ کونسل کے رہنما خطوط کے مطابق نرسنگ کے طالب علموں کے لیے انٹرن شپ بہت اہم ہے اور کے ایم یو اپنے نرسنگ کالجوں کے لیے انٹرن شپ کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم یونے سوات، صوابی، کرم اور اسلام آباد میں نرسنگ پروگرام شروع کیئے ہیں جس سے ان علاقوں میں نرسنگ کے شعبے کوفروغ حاصل ہوگا۔ وائس چانسلر نے کہا کہ کے ایم یو نرسنگ کی تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہے اور ہم صوبے کے دور دراز علاقوں کے لوگوں کو اعلیٰ معیار کی کم لاگت نرسنگ کی تعلیم ان کی دہلیز پردینے کے لیئے مذیدنرسنگ کالج کھولنا چاہتے ہیں جس میں نرسنگ کونسل کا تعاون اور سرپرستی بنیادی اہمیت رکھتاہے۔ ا جلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ چونکہ خیبرپختونخوا میں خواتین نرسوں کی اکثریت چترال سے ہے لہٰذاکے ایم یو چترال میں بھی ایک نرسنگ کالج کھولنے کے لیے تیار ہے جس سے چترال کے لوگوں کو ان کے اپنے ضلع میں نرسنگ کی تعلیم کے مواقع دستیاب ہوں گے۔ اجلاس کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خواتین طالبات کو نرسنگ کالجوں میں داخل ہونے کی ترغیب دی جائے گی اور خواتین نرسوں کی انرولمنٹ بڑھانے کے لیے الحاق شدہ کالجوں میں خواتین کے لیئے اسکالرشپس کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ #