شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ میں سیاسی شمولیت اور پروگرامات کا سلسلہ روز بروز گرم ہوتا جا رہاہیں، شانگلہ میں پی ٹی آئی نے سابق دور حکومت میں مسلم لیگ،عوامی نیشنل پارٹی،جمعیت علماء اسلام، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کو شدید نقصان پہنچایا اور درجنوں کارکنان اور سرگرم رہنماؤں نے اپنی جماعتیں چھوڑی تھی اور شوکت یوسف زئی کیساتھ تھے اب صورتحال یہ ہے کہ مسلم لیگ،پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی میں نئے شمولیتوں کاسلسلہ شروع ہو چکا ہیں۔ شانگلہ میں ہر ہفتے امیر مقام مسلم لیگ میں شمولیتی پروگرام کر رہے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی یہ صورتحال جاری ہے جہاں ایک طرف پاکستان تحریک انصاف پر غیر علامتی طور پر پابندی ہے اور شمولیت تو کیا اس کے رہنما اور پارٹی کے سرگرم کارکنان کھلے عام اپنی جماعت کا اظہار نہیں کر سکتے وہاں دوسری جانب اس کا فائدہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی اٹھا رہی ہے اور ائے روز شمولیتی پروگرام کر رہے ہیں مگر ایک بات یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ نون میں شمولیتوں پر اس جماعت کے کہیں اہم رہنما ء ناراض دکھائی دے رہے ہیں یونین کونسلوں کے سطح پر دیگر جماعتوں سے مسلم لیگ نون میں شمولیت پر اس کے رہنما کہتے ہیں کہ ان کو بائی پاس کیا گیا اور یہ نظر اندازی ان کو قبول نہیں سوشل میڈیا پر مسلم لیگ نون میں اختلافات کی خبریں گردش کرتی ہیں مگر جب انجینئر امیرمقام ان رہنماؤں سے ملتے ہیں تو سارے گلے شکوے اور ناراضگیاں ختم ہو جاتی ہے گویاں امیر مقام کے پاس کوئی منتر ہوں۔ اسی طرح دوسری جانب دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی میں شمولیتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ان کو بھی لوگ اب اہمیت دے رہے ہیں اور اوا کا رخ بھی اس طرف زیادہ نظر ا رہا ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی بھی اسی تگوداو میں ہے مگر اے این پی کو شانگلہ میں شدید مشکلات درپیش ہیں اور اس جماعت کے کئی بنیادی رہنماء اب ان کی حوسلہ افزائی سے قاصر نظر آرہے ہیں۔ سیاسی لحاظ سے شانگلہ کی بات کی جائے تو شانگلہ میں انجینئرا میرمقام اور حاجی سیدفرین خان شروع سے ایک دوسرے کے حریف رہے ہیں چاہے وہ قومی الیکشن ہو صوبائی یا بلدیاتی ان دونوں نے بھرپور انداز سے مقابلہ کیا اور اس بار بھی ان کا سخت مقابلہ متوقع ہیں مگر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شانگلہ میں دیگر جماعتیں جن میں شوکت یوسف زئی تحریک انصاف کے ٹکٹ پر دو مرتبہ منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر بھی رہیں۔ان دنوں جہاں الیکشن تاریخ کے اعلان کے بعد چند لوگ اپنے گوفاؤں سے نکلے ہیں اور شانگلہ کی تقدیر بدلنے،پسماندگی کے خاتمے،انفراسٹرکچر کا تعمیر نو،غرب کے خاتمے،صحت اور تعلم پر خصوصی توجہ جیسے بڑ بڑے نعرے لگا رہے ہیں کو عوام کیا عام انتخابات میں اس علاقے کی نمائندگی کیلئے منتخب کریگی۔۔؟، شانگلہ کے بہت سے سیاسی جماعتوں میں کئی اہم رہنماء اپنے جماعتوں سے ناراض ہیں _ نگران دور میں ان رہنماؤں کے نہ تو کام کیے گئے اور نہ ہی ان کو بلایا گیا ان کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے اور الیکشن کے وقت یہ اپنے پارٹیوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ حالات ایسے رہے تو تحریک انصاف شانگلہ میں مضبوط نظر ارہی ہے مگر وقت کا کوئی پتہ نہیں کہ سیاسی فضا ء کس طرف جاتی ہیں شانگلہ میں شروع ہی سے انجینئرا میر مقام اور حاجی سید فرین خان ایک دوسرے کے مدمقابل رہیں ہیں اور اج بھی ان دونوں کو مضبوط پایا جاتا ہے۔۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے