پشاور(مانند نیوز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ آنے والے انتخابات میں ہر قسم کی دھاندلی کو روکیں گے۔ جنات اور فرشتوں کوکسی قیمت ووٹ پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔ شفاف انتخابات ہوئے تو پختونخوا میں اے این پی کے مقابلے کا کوئی نہیں۔ پختون قوم کے حقوق کے حصول کے علاوہ ہماری کوئی ذاتی لالچ نہیں۔ دوسروں کے مفادات کیلئے اپنی سرزمین کو میدان جنگ نہیں بننے دیں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی پی کے 47 صوابی کے زیر اہتمام ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ پختون قوم کو امن اور وسائل پر اختیار دلانا اے این پی کا واحد مقصد ہے۔ بجلی چور پختون نہیں وہ لوگ ہیں جو پختون قوم کے حق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ پختون قوم سے بجلی چوری کرکے واپس پختونوں پر ہی فروخت کی جارہی ہے۔ پختونوں پر بجلی چوری کا الزام لگانے والے شکر کرے کہ پختون بل دے رہے ہیں۔ صوابی کی بجلی سے پنجاب کے کارخانے چل رہے ہیں، صوابی روشنی سے محروم ہے۔ یہ بالکل بھی برداشت نہیں کہ 6000 میگا واٹ پیداوار میں بھی پختونخوا میں اندھیرے ہوں۔ پختونوں کو صرف بجلی کی پیداوار کا حق بھی مل جائے تو پختونخوا کے تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ صوبائی صدر ایمل ولی خان کا مزید کہنا تھا کہ پختونوں کے وسائل پر پہلے انگریز اور اب انگریز کے غلام قابض ہیں۔ وسائل پر اختیار نہ ہونے سے ہمارے بچے روٹی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کی منزل اور مقصد صرف ایک الیکشن اور اقتدار نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنے دور حکومت میں اے این پی نے تعلیمی انقلاب برپا کیا اور صوبہ بھر میں تعلیمی اداروں کا جال بچھایا۔ پی ٹی آئی نے پختونخوا کے اس تعلیمی نظام کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یونیورسٹی فیسوں میں اضافے کی وجہ سے طلباء و طالبات تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ اے این پی کو موقع ملا تو صوبہ بھر کے تمام سرکاری یونیورسٹیز میں تعلیم مفت فراہم کرے گی۔ طالبات کو ماہانہ وظیفہ اور اساتذہ کو ریسرچ کی مد میں گرانٹس فراہم کئے جائیں گے۔ ورکرز کنونشن سے امیدوار پی کے 47 نوابزادہ خان، امیدوار این اے 18 شاہنواز خان، تحصیل رزڑ چیئرمین ملک غلام حقانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر صوبائی سیکرٹری مالیات مختیار خان، ضلعی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری آیاز شعیب خان، امیدوار پی کے 49 توصیف اعجاز یوسفزئی، امیدوار پی کے 50 زاہد خان سمیت دیگر ضلعی و تحصیل ذمہ داران اور کثیر تعداد میں کارکنان موجود تھے۔