اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ نوازشریف واپس آرہے ہیں یا نہیں آرہے یا انہیں کیا قانونی مشکلات ہیں یہ سوال میڈیا ان سے ہی پوچھے، اس وقت میں اتنا ہی سمجھتا ہوں کہ پی ڈی ایم، پاکستان پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی وجہ سے 25کروڑ پاکستانی عوام مشکل سے دوچار ہیں،اِنہوں نے ملک دلدل میں پھنسایا ہے اورآئی ایم ایف اورورلڈ بینک کاغلام بنایاہے، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کر کے اِنہوں نے پوری قوم کو زنجیروں سے باندھا ہے، پہلے یہ اپنے اُن اعمال کاقوم کے سامنے جواب دیں، میں یقین دلاتا ہوں کہ یہ قوم کاسامنانہیں کرسکتے، اِنہوں نے قوم کا بیڑہ غرق کردیا ہے، معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے اورامن وامان کو خراب کیا، یہ کس چہرے کے ساتھ عوام کے پاس جائیں گے، اِن کو ایک نہیں بار، بار موقع ملا اورہرباراِنہوں نے قوم کے ساتھ دھوکہ کیاہے، ظلم کیا ہے اور زیادتی کی ہے۔ہمارا یہ مئوقف کہ کم ازکم سپریم کورٹ آف پاکستان، الیکشن کمیشن آف پاکستان اوراسٹیبلشمنٹ غیر جانبداررہیں اورجس دن یہ غیر جانبدار ہوجائیں گے اس دن پی ڈی ایم،پی پی پی اور پی ٹی آئی کی سیاست ختم ہوجائے گی۔ ان خیالات کااظہار سراج الحق نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میںکیا۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن)نے ایک طویل عرصہ سے پاکستانی سیاست کو یرغلمال بنایا ہے، پیسے کی بنیاد پر اورلوٹی ہوئی دولت کی بنیاد پر یہ سیاست کرتے ہیں، جب ان کا مفاد ایک ہوتو یہ ایک ہو جاتے ہیں اور شام کو نعرے لگاتے ہیں بلاول، مریم بہن بھائی اور مفاد نہ ہوتو شامل کو ایک دوسرے سے لڑتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف الزامات لگاتے ہیں، یہ مفادات کی سیاست کرتے ہیں، ہمارا مسئلہ یہی ہے یہ جو ظالم جاگیردار اورکرپٹ سرمایادار ہے پیسے کی بنیاد پر یہ سیاست پر غالب آتے ہیں اور پھر پوری قوم کو نچوڑ لیتے ہیں۔ ہم عوام کو بیدار کررہے ہیں کہ ان لوگون کے نعروں میں نہ آنا، ان لوگوں کی سازشوں میں نہ آنا، پہلے بھی یہ اسٹیبلشمنٹ کے فیڈر کی بنیاد پر سیاست کرتے رہے اور اب بھی اُسی کے لئے دونوں کوشاں ہیں،اگر مجھے بوتل مل رہی ہے توکہتا ہے اُن کو بھی ملے،لیکن جماعت اسلامی کی جولڑائی اورجو جنگ ہے وہ غربت، جہالت، مہنگائی اور بدامنی کے خلاف ہے اور پی ڈی ایم،پی پی پی اور پی ٹی آئی نے پانچ سال حکومت کی ہے اگر ملک میں غربت اور مہنگائی ہے توہ جنات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ انہیں پارٹیوں کی وجہ سے ہے جو کبھی ایک ہوتے ہیں اور کبھی آپس میں لڑنے لگتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں بروقت الیکشن ہو، جلدی ہو، اس دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے، نگران حکومت کی صلاحیت نہیں ہے نہ لوگ ان کو اعتماد کرتے ہیں، نہ باہر کی دنیا ان کے ساتھ بات چیت کرتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک مینڈیٹ والی اور مستحکم حکومت بن جائے لیکن اس وقت تو لوگوںکو جینے کی ضرورت ہے الیکشن اپنی جگہ پر ایک اہم چیز ہے۔ خوبصورت کپڑے ہوں، واسکٹ ہو کوٹ ہو یہ اورچیز ہے لیکن پہلی چیز تویہ ہے کہ جسم کے اندر روح تو ہو، اگرروح کی نکل جائے توٹوپی، واسکٹ، کپڑوں اور بوٹ کو کیا کریں گے۔ اس وقت لوگوں کے جینے کا مسئلہ ہے اور ہمارا نعرہ یہی ہے کہ لوگوں کوجینے دو، طلباء کو جینے دو، مزدوروں اورکاشتکاروں کو جینے دو۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی حقیقی نہیں بلکہ جعلی اور مصنوعی ہے جو کہ مافیاز نے مل کر ہمارے اوپر مسلط کی ہے، عوام اب بیدرا ہو گئی ہے اوراب وہ زمانہ نہیں ہے کہ بند کمروں میں عوام کی قسمت کے فیصلے کریں،ہم دلائل کی بنیاد پر بات کرتے ہیں، اب ہم حقائق کو جانتے ہیں، پاکستان میں آٹا، چینی، چاول اوردال کیوں مہنگے ہیں، اگر آپ یہ بہانہ بنارہے ہیں کہ تیل اس لئے مہنگا ہے کہ وہ باہر سے آرہا ہے اوربرآمد ہورہا ہے توچاول، چینی اوردال تو یہاں پیدا ہوتے ہیں، آٹا مافیا ہے، پیٹرول مافیا ہے، پیازمافیا ہے، ڈیزل مافیا ہے ان سب نے مل کرہمارے معاشرے کو یرغمال بنایا ہے، ان معاشی دہشت گردوں کے خلاف ہم نے جہاد کااعلان کیا ہے، ایک عوامی بیداری ہے اوراس میں ہر قیمت پر کامیاب ہوجائیں گے اور ہم حکومت کو مجبورکرسکتے ہیں اور کریں گے کہ یہ جو فضول مہنگائی ہے،یہ بے جواز مہنگائی ہے اس کوواپس لے۔ جو بجلی کے بل آرہے ہیں اس میں 48فیصد ٹیکسز شامل کئے گئے ہیں،یہ ظلم نہیںہے کہ اگرآپ 100روپے کی بجلی استعمال کررہے اوراس پر 48روپے اضافی ٹیکس دے رہے ہیں آخر کیوں۔ٹیکسز کے نام توہیں لیکن یہ لینے والے کو بھی پتا نہیں کہ یہ کیا بلا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اضافی ٹیکسز کابوجھ عوام پر نہ ڈالے۔حکومت خو د کہتی ہے کہ 550ارب روپے کی بجلی چوری ہے، اگر حکومت اور حکومتی عملہ اس چوری میں شامل ہے تواس کا بوجھ عام آدمی پر کیوں ڈالتے ہیں،ایک عام پاکستان کم ازکم پانچ چوروںکا بوجھ برداشت کرتا ہے۔