نئی دہلی(مانند نیوز ڈیسک) افغانستان نے بھارت کے عدم تعاون کے باعث نئی دلی میں واقع افغان سفارتخانہ اتوار کو بند کر دیا۔افغان سفارتخانے نے بھارتی وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے نئی دلی میں سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔ سوشل میڈیا پربھارت میں افغان سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں یکم اکتوبر سے نئی دلی میں سفارتخانے کی تمام سرگرمیاں بند کرنے پر افسوس اور مایوسی کا اظہار بھی کیا گیا۔خط میں سفارتخانے کی سرگرمیاں بند کرنے کا فیصلہ عملے کی قلت، وسائل کی کمی اور بھارتی حکومت کے عدم تعاون کو قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ بھارتی حکومت کے عدم تعاون کے باعث سفارتی مشن موثر طریقے سے چلانے میں مشکلات کا سامنا رہا جبکہ عملے اور وسائل کی قلت کی وجہ سے سفارتی آپریشن جاری رکھنا چیلنج بن گیا تھا۔افغان سفارتخانے کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت افغانستان کے مفادات کے لیے خدمات کی توقعات پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔خط میں سفارتخانے کو بند کرنے کی ایک وجہ کابل میں ایک آئینی طور پر کام کرنے والی حکومت کی عدم موجودگی کے پیش نظر افغانستان کے مفادات کو نظر انداز کرنا، سفارت کاروں کیلئے ویزہ تجدیدبروقت نہ ہونابھی معطلی جیسی وجوہات میں شامل ہیں۔ سفارت خانے کے خط کے مطابق سفارت خانے کے عملے کے آپس کے جھگڑے کا بے بنیاددعوی مستردکرتے ہیں، کوئی بھی سفارت کارموجودہ بحران کوکسی تیسرے ملک میں پناہ حاصل کرنے کیلئے استعمال نہیں کررہا ہے۔ دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سفارتخانے پر کنٹرول کے لیے طالبان کے نامزد کردہ اور سابق افغان صدر اشرف غنی حکومت کے مقرر کردہ سفیر کے مابین رسہ کشی چل رہی تھی۔ اس سے قبل غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں سفارتخانے کے 3اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھاکہ سفیر اور دیگر سینئر سفارت کاروں نے حالیہ مہینوں میں بھارت چھوڑ کر یورپ اور امریکا میں سیاسی پناہ حاصل کر لی، بیان میں بتایا گیاکہ بھارت نگران کے طور پر سفارتخانے کا کنٹرول سنبھال لے گا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے