شانگلہ(مانند نیوز) شانگلہ یونیورسٹی متنازعہ خاتمہ، گورنر انسپیکشن ٹیم شانگلہ ائی ہی نہیں۔نیاانکشاف۔فنڈز کی عدم فراہمی،سیاسی بنیادوں پر جیسے الزامات کی بنیاد پر یونیورسٹی کا خاتمہ قبول نہیں۔شانگلہ یونیورسٹی کیخلا ف سازشوں کو بے نقاب کرینگے،گورنر خیبرپختونخواہ،نگران حکومت صورتحال کانوٹس لے کر واضح کریں کہ شانگلہ یونیورسٹی اپنی پوزیشن پر قائم ہے۔شانگلہ ایکشن کمیٹی جلد گرینڈ جرگہ بلاکراس پر بات کریگی،صدر شانگلہ بار ایسوسی ایشن و چیئرمین شانگلہ ایکشن کمیٹی جواد علی نور۔کسی کو شانگلہ یونیورسٹی کے خاتمے کی اجازت نہیں دینگے۔عوامی نیشنل پارٹی کا موقف۔شانگلہ یونیورسٹی کا خاتمہ کسی کو بھی قبول نہیں،بھرپور احتجاجی تحریک چلائے گے۔پی ٹی آئی۔ شانگلہ یونیورسٹی کے خاتمے میں سوات یونیورسٹی کے اعلی حکام کی مداخلت پر شانگلہ کے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے، سول سوسائٹی اور ایکشن کمیٹی متحرک جلد گرینڈ جرگہ بلانے کا فیصلہ۔ پڑھے لکھے لوگ تعصب کی بنیاد پر شانگلہ یونیورسٹی کا خاتمہ چاہتے ہیں جو ہمیں قبول نہیں۔ شانگلہ یونیورسٹی کا قیام پی ٹی آئی حکومت کا بڑا اقدام ہے سیاستدان تعلیمی اداروں میں سیاست کے بجائے یہاں ان کی ترقی کے لیے کام کریں،عوامی حلقے۔ یونیورسٹی آف شانگلہ کا خاتمے میں سوات یونیورسٹی کے بڑی مچھلیاں جو خود بہت پڑھے لکھے ہیں تعصب کی بنیادپر منفی کردار قابل شرم اور قابل افسوس ہے ایسے لوگ معاشرے کو کیا تاثر دے رہے ہیں۔ ماہر تعلیمات کی سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ جاری ہیں۔ شانگلہ سے سابق رکن اسمبلی شوکت یوسف زئی نے شانگلہ یونیورسٹی کے خاتمے کو شانگلہ کے طلباء کے ساتھ زیادتی قرار دیتے ہوئے ٹویٹ کیا اور لکھا کہشانگلہ یونیورسٹی کو دوبارہ کیمپس میں تبدیل کرنے کے سازشی منصوبے کی شدید مذمت کرتا ہوں نگران حکومت اور مخالف سیاسی قوتیں اس سازش سے باز ا جائیں۔ کیونکہ یونیورسٹی کے قیام کا مقصد یہاں سے غربت، پسماندگی اور بے روزگاری کا خاتمہ، ترقی و خوشحالی لانا اور یہاں کے نوجوانوں کو ان کی دہلیز پر اعلی تعلیم کی سہولیات فراہم کرنا تھا۔ نگران حکومت اور سیاسی مخالف قوتوں کو واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ سازش کوئی بھی قبول نہیں کرے گا کیونکہ یونیورسٹی کو ختم کرنے کا مقصد شانگلہ کو دوبارہ تاریکیوں میں دھکیلنا ہے۔اگر سازشیں بند نہ ہوئی تو بہت جلد تحریک کا اعلان کروں گا اور وہ تحریک کسی سیاسی پلیٹ فارم سے نہیں بلکہ شانگلہ کی عوام کی طرف سے ہوگی اس لیے سازشی عناصر ہوش کے ناخن لیں۔دیگر سیاسی جماعتوں میں عوامی نیشنل پارٹی کے متوکل خان ایڈوکیٹ دیگر جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے یونیورسٹی کے ممکنہ خاتمے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شانگلہ جیسے پسماندہ علاقے میں یونیورسٹی کا قیام وقت کی اہم ضرورت تھی جنہیں سابق حکومت نے پورا کیا اب اس کو ختم کرنا ناقابل برداشت اور ہمیں قبول نہیں۔ سوشل میڈیا پر مختلف لوگوں نے پوسٹ چلائے اور اس میں لکھا کہ سوات یونیورسٹی شروع ہی سے شانگلہ یونیورسٹی کے قیام کے خلاف ہے اور کچھ لوگ تعصب کی بنیاد پر ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو نہیں ہونے چاہیے اس سے نہ صرف علاقائی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا ہو جاتی ہے بلکہ ایسے متنازعہ اقدامات سے طلبا کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جس سے گریزکرنا چاہیے۔ شانگلہ یونیورسٹی کی بات کی جائے تو شانگلہ یونیورسٹی کے موجودہ احاطہ جس میں ٹیکنیکل کالج کو شامل کیا جائے تو 80 کنال بنتا ہے جو یونیورسٹی کے لیے کافی ہے گورنر انسپیکشن ٹیم کے رپورٹ میں حقائق سے برعکس لکھا گیا ہیں اور یاد رہے کہ گورنر انسپیکشن ٹیم نے شانگلہ کا دورہ تک نہیں کیا اور سوات یونیورسٹی میں بیٹھ کر کچھ لوگ جو تعصب کی بنیاد پر یہ کام کر رہے ہیں اس کی ایماں پر رپورٹ بنائی جس پر شانگلہ کے طلباء سیاسی،سماجی حلقے ٹریڈ یونین، صحافیوں، وکلا ء،شانگلہ ایکشن کمیٹی اور قامی جرگہ نے شدید الفاظ میں مذمت کی اورگرینڈ جرگے کے ذریعے حکومت پر واضح کرتی ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز ہونا چاہیے جو عوامی مفاد کے منافی اور سینکڑوں طلباء کی مستقبل کا مسئلہ ہو۔ شانگلہ یونیورسٹی میں مختلف ڈیپارٹمنٹ میں فی الحال700 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جس میں 4 ڈیپارٹمنٹس کھلے ہیں اور صوبے کے مختلف علاقوں سے یہاں طلباء نے داخلے لے رکھے ہیں۔ شانگلہ یونیورسٹی کے خاتمے سے یہاں پڑھنے والے سینکڑوں طلباء وہ بھی ہیں جو اگر یونیورسٹی ختم ہوئی تو وہ مزید تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے سکیں گے جو ہائیر ایجوکیشن کمیشن، صوبائی حکومت اور خود سوات یونیورسٹی کے لیے باعث فکر ہونا چاہیے۔ماہر تعلیمات کا کہنا ہے کہ شانگلہ یونیورسٹی مستقبل میں ایک کامیاب گرین کیمپس اسلئے بھی ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ قدرتی لحاظ سے یہ گرین کیمپس کیلئے موضون ہے۔