شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ سرکاری سکول میں داخلہ مہم چلانے سے پہلے ان سکولوں میں جاری کاروباروں کو بند کیا جائے۔ سرکاری اساتذہ کی سرپرستی میں بچوں سے سٹوڈنٹ کارڈ کے عوض150سے 200 روپے وصول کئے جارہے ہیں۔ بیشتر سرکاری سکولوں میں اساتذہ بچوں کو کاپیا ں،پینسلز اور دیگر تدریسی اسٹیشنری بھی فروخت کر رہے ہیں جاری سلسلہ بند کیا جائے۔ ماہرین تعلیمات۔شانگلہ میں نجی سکول جواب بیشتر کاروبار کے لیے کھولے گئے ہیں کے بعد اب سرکاری سکولوں بھی کاروباری مرکز میں تبدیل ہو رہے ہیں سرکاری سکولوں میں سرکاری اساتذہ کی سرپرستی میں طلباء سے کاروبار کیا جا رہا ہے، سکولوں کے اندر اساتذہ سٹیشنری فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اب سٹوڈنٹ کارڈ پر 150 روپے سے 200 روپے کے پر سٹوڈنٹ طلبہ کو سٹوڈنٹ کارڈ بنوارہے ہیں جبکہ بازار میں اس کی قیمت 40 سے 50 روپے ہیں انکوائری ہوتی ہے تو محکمہ تعلیم کے افسران متعلقہ سکول جاتے ہیں اور وہاں کھانا کھا کر واپس آتے ہیں اور لکھتے ہیں یہ سب ٹھیک ہیں یہ سلسلہ بند ہو جانا چاہیے۔ شانگلہ کے ماہرین تعلیمات نے شانگلہ کے سرکاری سکولوں میں جاری کاروبار پر شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اساتذہ معماران قوم ہیں جب کہ اپنے ہی سٹوڈنٹ سے کاروبار کرنا ان کے لیے باعث شرم ہونا چاہیے مگر محکمہ تعلیم بھی اس کی سرپرستی کر رہی ہیں جبکہ ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے جو محکمہ تعلیم کے لیے بھی باعث فکر ہیں شانگلہ میں نگران حکومت میں سکول بڑے پیمانے پر تبادلے کیے گئے اور قابل اساتذہ کو سفارش کے بنیاد پر دفات بھیجا گیا جبکہ بیشتر سکولوں کو ان قابل اساتذہ سے خالی کرایا گیا۔ جو تاحال دفاتر میں تعینات ہیں۔ شانگلہ میں سرکاری سکولوں میں کاروبار کا سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور ہر سال طلبہ سے مختلف فیس کی مد میں ہزاروں روپے بٹور ے جاتے ہیں جس میں محکمہ تعلیم شانگلہ کے افسران بھی ملوث ہیں اور جب ان افسران کو اس حوالے سے پوچھا جاتا ہے تو وہ یہ بہانہ کرتے ہیں کہ اس کے خلاف انکوائری کریں گے اور بعض افسران تو یہ بھی کہتے ہیں کہ آئی ڈی کارڈ تو طلبہ کے شناخت کے لیے بنائے گئے ہیں تو سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا ان سرکاری سکولوں میں کتنے ہزار تعداد ہے کہ ان میں سٹوڈنٹس کا انتخاب مشکل ہو جاتا ہے۔ شانگلہ کے سرکاری سکولوں میں مختلف طریقوں سے ہونے والے کاروبار پر ماہرین طالبات نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں محکمہ تعلیم کے لیے بہت بڑا چیلنج قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سرکاری سکولوں میں ایسے اقدامات یا کاروبار سے گریز کرنا چاہیے اور محکمہ تعلیم کے صوبائی ڈائریکٹر اور سیکرٹری تعلیم سے سرکاری سکولوں میں جاری کاروبار پر پر بین لگانے کی اشد ضرورت ہے۔۔