پشاور(مانند نیوز) وزیرِ خوراک آصف رفیق کی کھلی کچہری کے بعد فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے کاروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے صوبے بھر میں ملاوٹ مافیا کے خلاف گھیرا تنگ کرنا شروع کردیا۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے بیان میں بتایا کہ گذشتہ روز پشاور کے علاقے میاں گجر میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر چائے بنانے والی فیکٹری پر اچانک چھاپا مارا۔ انسپکشن کے دوران فیکٹری سے ملاوٹ شدہ مضر صحت ایک ہزار کلو گرام سے زائد چائے کی پتی برامد کر لی گئی۔ ٹیم کے مطابق تین سو کلو گرام سے زائد بھوسہ اور چھے کلو سے زائد مضر صحت نان فوڈ گریڈ کلر بھی ضبط کر لیا گیا۔ بھوسہ اور کیمیکل چائے کی پتی میں بطورِ ملاوٹ استمعال کیا جا رہا تھا۔ٹیم نے فیکٹری میں استمعال ہونے والی مشینری کو سرکاری تحویل میں لیتے ہوئے مینجر کو موقع سے گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا، جبکہ مالک کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کاروائی کا آغاز کر دیا گیا۔دوسری طرف جہانگیری روڈ صوابی میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے ناکہ بندی کر کے مختلف گاڑیوں کی چیکنگ کی۔ دورانِ چیکنگ ایک گاڑی سے سات سو پچاس کلو سے زائد مضر صحت ملاوٹ شدہ گھی سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔ مضر صحت گھی صوابی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں کو سپلائی کیا جا رہا تھا۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے ملاوٹ مافیا کو اپنا قبلہ درست کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے ٹیمز کو کارروائیاں جاری رکھنے کی ہدایت جاری کر دیں۔