پشاور(مانند نیوز) آل یونیورسٹیز ایمپلائز فیڈریشن خیبر پختونخوا کا جامعا ت کے ملازمین کے مسائل حل کرنے کیلئے احتجاجی جنرل باڈی اجلاس دوسرے روز انجنیئرنگ یونیورسٹی پشاور میں منعقد ہواجسمیں گریٹر کیمپس کے جامعات کے ملازمین نے کثیر تعداد میں شرکت کی اس دوران دفاتری سرگرمیاں ٹھپ رہی اس موقع پرال یونیورسٹیز ایمپلائز فیڈریشن خیبر پختونخواہ کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ جامعات ذبوحالی کا شکار ہیں اور کوئی ان کا پر اسان حال نہیں ہے۔ مالی اور انتظامی بد حالی کی وجہ سے طلباء و طالبات کا مستقبل داو پر لگا ہوا ہے۔ وائس چانسلر ز اپنے اختیارات اور وسائل کا بے دریغ ناجائز استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے جامعات کے ملازمین اور طلباء بے شمار مسائل میں گرے ہوئے ہیں۔ جامعات کے ملازمین ابھی تک 15 فیصد ڈسپر ٹی الاونس اور حکومت کی طرف سے بحث اجلاس میں تنخواہوں اور پنشن میں اعلان کردہ 35, 30, 17.50 اضافے سے محروم ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے جائز مسائل ہیں جو کہ حل طلب ہیں۔ صوبائی حکومت اور خصوصا گورنر خیبر پختونخواہ بھی اس بابت خاموش ہیں اور جامعات میں ہونے والی ان بے قاعد گیوں پر چپ ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ جامعات کے ملازمین کے مسائل فوری حل کئے جائیں بصورت دیگر احتجاج کا دائر کار وسیع کرینگے فیڈریشن نے واضح کیا کہ بروز جمعہ 10نومبر کو زرعی یونیورسٹی پشاور میں جنرل باڈی اجلاس منعقد کیا جائیگا۔