تہران (مانند نیوز ڈیسک)ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ غزہ کے تنازعے پر بات کرنے کے بجائے کا عملی اقدام اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے یہ بات غزہ بحران پر سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب روانہ ہو نے کے دوران ائر پورٹ پر کہی،رئیسی نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے لیے روانگی سے قبل تہران ہوائی اڈے پر کہا۔ "غزہ الفاظ کا میدان نہیں ہے۔ یہاں کارروائی ہونی چاہیے۔”انہوں نے مزید کہا، "آج اسلامی ممالک کا اتحاد بہت ضروری ہے،انہوں نے کہاکہ اوآئی سی ہنگامی اجلاس کا محور فلسطین ہے۔ ایران نے اس ہنگامی اجلاس کے انعقاد کا مطالبہ ایک ماہ قبل کیا تھا، جو کسی نہ کسی وجہ سے تشکیل نہ پا سکا۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ غزہ میں جارح اسرائیل کے ہاتھوں جو کچھ ہو رہا ہے اگر یہ انسانیت کے خلاف جرم نہیں ہے تو پھر انسانیت کے خلاف جرم کا مصداق کیا ہے؟ امریکہ نے اپنے بیانات میں خود کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ جنگ کا دائرہ مزید پھیلے اور ایران اور بعض دیکر ملکوں کو اس نے یہ پیغام بھی بھیجا ہے لیکن امریکیوں کی بات اور اس کے عمل میں مکمل تضاد ہے۔ غزہ میں جنگی مشین امریکہ کے اختیار میں ہے امریکہ، غزہ میں جنگ بندی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہے اور وہ جنگ کو ہوا دے رہا ہے۔امریکہ کے حقیقی چہرے کو دنیا کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ آیت اللہ رئیسی نے مزید کہا کہ اس اجلاس سے تمام اقوام خاص طور پر امت مسلمہ کی توقعات بہت زیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ اسلامی ملکوں کے سربراہان، فلسطین کے مسئلے میں کہ جو عالم اسلام کا اہم ترین مسئلہ ہے ایک ٹھوس فیصلے تک پہنچ سکیں اور یہ فیصلہ مکمل طور پر نافذ العمل ہو۔ اب صرف زبانی باتوں اور دعووں کا وقت نہیں رہا اب عملی اقدام کی اشد ضرورت ہے۔۔