پشاور(مانند نیوز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ انتخابات وہ قابل قبول ہوں گے جن میں انسان ووٹ ڈالیں نہ کہ جنات۔ ملک کیلئے صاف شفاف الیکشنز ہی مفید ہوسکتے ہیں، سلیکشن نہیں۔ پختونوں کی بدقسمتی ہے کہ ہر نئے تجربے اور سازش کیلئے ہماری سرزمین کو استعمال کیا گیا۔ عمران کی شکل میں پختونوں کے خلاف ایک سازش جنرل پاشا، جنرل ظہیر اور جنرل فیض نے کی تھی، دو سابق وزراء اعلی کی سربراہی میں پختونخوا کے خلاف ایک اور سازش کی جارہی ہے۔ آج نئے ٹولے کا سربراہ کہہ رہا ہے کہ نئی پارٹی اس لئے بنائی کہ باقی سیاسی پارٹیوں میں کرپشن ہے۔کرپشن ختم کرنی ہے تو سیاست سے پہلے پرویز خٹک اور محمود خان کا نام ختم کرنا ہوگا۔ بڈھ بیر میں عوامی نیشنل پارٹی پی کے 76 کے زیراہتمام ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ صوبے میں دس سال ایسے لوگوں نے حکومت کی جو اب انجام کو پہنچ رہے ہیں۔ صوبہ ایسے لوگوں کے سپرد کیا گیا تھا کہ جب سخت وقت آیا تو دونوں سابق وزراء اعلی اپنے لیڈر سے بھاگ گئے۔ عمران خان کی سیاست سے ملک و قوم کونقصان ہوا اور سیاست انتشار کا شکار ہوئی۔ عمران خان کے ساتھ نظریاتی اختلاف ہے، مگر محمود خان اور پرویز خٹک نے جو کیا سب کے سامنے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نگران وزیر اعلی پختونخوا اعظم خان کی وفات پر دلی دکھ اور افسوس ہوا۔ صوبے میں سوگ کی فضا ہے، گورنر صاحب کس کے پریشر میں فیصلے کر رہے ہیں۔ گورنر صاحب کی کیا مجبوری تھی کہ سوگ ختم ہونے کا بھی انتظار تک نہیں کیا۔ موجودہ صورتحال میں نئے نگران وزیراعلی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہیئے تھا۔ سپریم کورٹ بہتر اندازمیں نئے وزیراعلی کے انتخاب کیلئے رہنمائی کرسکتی تھی۔ امیرحیدر خان ہوتی نے مزید کہا کہ 2013 میں ہمیں دہشتگردی اور 2018 میں دھاندلی کے ذریعے پارلیمان سے باہر رکھا گیا۔ اے این پی پچھلے دونوں انتخابات میں اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کو بالکل بھی نہیں بھولی ہے۔ مرضی کا وزیراعلی اور افسران لاکر انتخابات میں دھاندلی کا منصوبہ کسی کی خام خیالی ہی ہوسکتی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کسی کو اپنے ووٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انتخابات کچھ لوگوں کیلئے ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ ہوگا، ہمارے لئے اپنے وسائل پر اختیار، بدامنی کا خاتمہ اور امن کا قیام سب سے زیادہ ضروری ہے۔ خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ اے این پی دورحکومت میں قرضوں میں کمی ہوئی تھی اور صوبے کا خزانہ بھرا ہوا تھا۔ آج نااہلوں کی بدولت خزانہ خالی اور بیرونی قرضہ ایک ہزار ارب تک پہنچ چکا ہے۔ اے این پی کو موقع ملا تو نہ صرف بیرونی قرض ختم ہوگا بلکہ خزانہ ایک دفعہ پھر بھرا ہوا ملے گا۔ اختیار ملا تو صوبہ بھر کی سرکاری یونیورسٹیوں میں طلباء و طالبات کو مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔ اقتدار ملا تو صوبے میں ایک جدید تعلیمی اور مؤثرصحت کا نظام عمل میں لایا جائے گا۔ اے این پی نئے این ایف سی ایوارڈ اور بجلی و گیس کے خالص منافع کے حصول کو یقینی بنائے گی۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم میں جن اختیارات سے آج بھی صوبہ محروم ہے وہ ہر قیمت پر اسلام آباد سے لائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سب سے زیادہ پن بجلی پیداکرنے والے صوبے کے عوام آج بھی بجلی کی سہولت سے محروم ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے