ڈھاکہ (مانند نیوز ڈیسک)بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے ڈھاکہ میں اعلان کیا ہے کہ ملک میں سات جنوری کو پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں گے۔ واضح رہے کہ ملک میں حزب اختلاف کی جماعتیں وزیر اعظم شیخ حسینہ کے استعفے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں اور اس حوالے سے پر تشدد مظاہروں کی وجہ سے ملک میں سیاسی بے چینی کا ماحول ہے۔چیف الیکشن کمشنر حبیب الاول نے ٹیلی ویژن پر براہ راست نشریات میں کہا، "12ویں پارلیمانی انتخابات سات جنوری کو 300 نشستوں پر ہوں گے۔” اس موقع پر انہوں نے سیاسی بحران کے حل کے لیے فریقین میں بات چیت کرنے پر زور دیا۔انہوں نے انتخابی شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے قوم سے خطاب میں کہا کہ ”بات چیت کے ذریعے اتفاق رائے اور حل تک پہنچنا کوئی ناممکن بات نہیں ہے۔”تاہم ملک کی حزب اختلاف کی اہم جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے انتخابات کے اعلان کو مسترد کر دیا۔پارٹی کے سینیئر جوائنٹ جنرل سکریٹری روح کبیر رضوی نے کہا، ”ہم ایک اور مضحکہ خیز اور جعلی الیکشن کے ذریعے جمہوریت اور عوام کے حق رائے دہی کو چھیننے کے لیے الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ شیڈول کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، جو ماضی میں بھی شیخ حسینہ کے کہنے پر ہوئے تھے۔” اس دوران دارالحکومت ڈھاکہ اور ملک کے دیگر حصوں میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔حزب اختلاف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ایک رہنما عبدالمعین خان، جو سابق وزیر اور رکن پارلیمان بھی ہیں، نے برطانوی خبر رساں اداریسے بات چیت میں کہا، ”ہم مخلصانہ طور پر چاہتے ہیں کہ حکومت تشدد اور اپوزیشن کے لیے جبر کا یہ راستہ ترک کر دے، تاکہ ایک مناسب سازگار ماحول پیدا ہو،۔۔۔۔۔ پرامن بقائے باہم کو یقینی بنایا جائے تاکہ لوگ آزادانہ طور پر اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کر سکیں۔”بی این پی کا کہنا ہے کہ ملک میں جو ماحول ہے، اس میں ایک غیر جانبدار نگراں حکومت کے قیام کے بغیر منصفانہ انتخابات ممکن نہیں، اس لیے اگر ایسا نہ ہوا تو ان کی پارٹی ان انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی۔واضح رہے کہ بی ان پی نے سن 2014 کے انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا تھا۔ البتہ سن 2018 کے انتخابات میں اس نے حصہ لیا۔ مسلم اکثریتی ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند پارٹی جماعت اسلامی اور ‘اسلامی آندولون بنگلہ دیش’ جیسی جماعتوں نے بھی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ ملک کی وزیر اعظم شیخ حسینہ پر آمرانہ طرز حکومت، انسانی حقوق کی خلاف ورزی، آزادی اظہار کے خلاف کریک ڈاون اور ناقدین کو جیل میں ڈال کر اختلاف رائے کو دبانے جیسے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔مغربی ممالک کی طرف سے حکومت پر ”آزادانہ اور منصفانہ” انتخابات کرانے کے لیے دبا بھی ہے۔بنگلہ دیشی ملبوسات کے سب سے بڑے خریدار امریکہ نے بھی مئی میں کہا تھا کہ وہ ایک ایسی پالیسی پر عمل کرنے پر غور کر رہا ہے جس کے تحت ان بنگلہ دیشی باشندوں کے ویزوں پر پابندی کی اجازت مل سکے گی، جو ملک میں جمہوری انتخابی عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے