وانا (مانند نیوز) قبائلی رہنما ملک جمیل نے کہا کہ اعلیٰ حکام ضلعی انتظامیہ جنوبی وزیرستان لوئر کو قبائلی عمائدین کے نام پر آئے ہوئے فنڈز اور جیب خرچہ میں ہیرا پھیری کا نوٹس لیں۔ حکومت دیگر قبائلی اضلاع کی طرح ہمیں بھی اپنا پورا حق دیا جائے ورنہ سخت احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ بدھ کے روز ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا میں چیف ملک جمیل وزیر اور ملک شہریار وزیر نے دیگر عمائدین کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ احمدزائی وزیر قبائل الگ ضلع کے قیام کا مطالبہ اس لئے کررہا تھا تاکہ وزیر قبائل کو مراعات کا پورا حق انکے گھر کی دہلیز پر مل سکے، مگر اب ڈی سی لوئر جنوبی وزیرستان کے سٹاف قبائلی عمائدین کو انگریز دور سے مقرر کردہ اعزایہ اور جیب خرچہ کو آدھا عمائدین میں بانٹ رہے ہیں جو سراسر ناانصافی اور زیادتی کے مترادف ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ہمارے ڈی سی لوئر جنوبی وزیرستان کہا کرتے تھے کہ وزیر قبائل کے ضلع اکاؤنٹ اوپن نہ ہونے کی وجہ سے عمائدین کو خرچہ اور اعزازیہ نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا ہمارے ڈی سی یہ بھی کہتے تھے کہ اپر وزیرستان کے محسود قبائلی عمائدین کو اس لئے خرچہ اور اعزازیہ مل رہا ہے کہ انکا پہلے سے اکاؤنٹ اوپن ہے۔انہوں نیکہا کہ اب توہمارے ضلع کا اکاؤنٹ کھولا ہے لیکن ضلعی انتظامیہ ہمیں آدھا خرچہ اور اعزازیہ دیا جارہا ہے جو نہ صرف نہ انصافی ہے بلکہ انتظامیہ کیلئے شرم کا مقام ہے۔ ملک جمیل وزیر اور ملک شہریار وزیر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ قبائلی مشران اور عمائدین کو عزت اور قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے، جہاں ہماری عزت نہ ہو، تو ہمیں وہ جیب خرچہ قبول نہیں۔ انہوں نے اس نامناسب رویہ کا صوبائی حکام، آئی جی ایف سی ساؤتھ کے پی اور کمانڈر ایس ڈبلیو ایس بریگیڈ وانا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا ضلعی انتظامیہ جنوبی وزیرستان لوئر کا قبلہ درست کریں ورنہ عنقریب سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔