ڈیرہ اسماعیل خان (مانند نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری فیصل کریم کنڈی نے جنوبی وزیرستان لوئر کے جنرل سیکرٹری عمران مخلص وزیر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان لوئر کے دو تحصیلوں تحصیل برمل انگوراڈا اور تحصیل توئی خلہ میں اختجاجی دھرنے جاری ہے ، ہم اس کی جائز مطالبات کی حمایت کرتے ہیں اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ دھرنے کے جائز مطالبات کا نوٹس لے کر فوری حل کرانے کے احکامات جاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی زندگی کے تمام تر بنیادی سہولیات یعنی یہاں کے باسی تعلیم، صحت، مواصلات اور ہر قسم کے انسانی اور شہری حقوقِ دیا جائیں۔ پاکستان کے آئین میں ہر شہری کو بنیادی تحفظ کا ذکر آیا ہے ، ان کو زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کیا جائے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ایک کروڑ لوگ مستفید ہو چکے ہیں ، پہلے کیست میں 7000 ہزار دیا جاتا تھا ابھی ہم نے بڑھا کر 8500 کر دیا گیا ، اس کے علاؤہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بچوں کو 1500 اور لڑکیوں کو 2000 پیسے دیتے ہیں ، جس سے لڑکے اور لڑکیاں آسانی سے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ پروگرام میں رہ جانے والوں مستحق لوگ اور جس کے پیسے کسی وجہ سے رکھے ہوئے ہے۔ ان کے لیے دوبارہ سروے ہوگا ۔ جس کو مرحلہ وار ترتیب دیا جائے گا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جنوبی وزیرستان کے لوگ اس بار پاکستان پیپلز پارٹی کو سپورٹ کریں ، ہمیں امید ہے کہ جنوبی وزیرستان کے مسائل کی حل کا تلاش اور مستقبل کیلئے وزیرستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا پاکستان پیپلز پارٹی کی ساتھ دینا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ ملک اور علاقے کی بہتری کیلئے سوچتے ہیں،
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پچھلے چلی گئی ادوار میں پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سابق فاٹا (مرجر اضلاع) کی بات کی ہے انہوں نے ہر فورم پر سابقہ فاٹا کی حقوق کی بات کی ہے ، اگر مرکزی حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی ، تو انشاءاللہ پوری ملک بالخصوص مرجر اضلاع کی مسئلے مسائل کا حل نکالے گے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو ، بینظیر بھٹو ، آصف علی زرداری نے ہمیشہ ملک کیلئے قربانیاں دی ہے اور ہمیں امید ہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ہی اس ملک کو آگے لیکر چلنا ہے، پرانے سیاست دان تو پاکستان کا ماضی تھا اور بلاؤل بھٹو زرداری بھی پاکستان کا مستقبل ہیں۔” اگر علاقے کی بہتری کے لئے سوچنا ہے تو کوشش کریں لیں کہ 8 فروری کو تیر کی نشان پر مہر لگائیں ، اس موقع پر انٹرنیشنل بزنس مین سیاسی وسماجی رہنماء اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن عبدالراشید وزیر بھی موجود تھے۔