پشاور(مانند نیوز) اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے زیراہتمام مسئلہ فلسطین پر 2روزہ انٹرنیشنل یوتھ کانفرنس اختتام پزیر۔اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کا مستقبل روشن ہے، اللہ کا مسلمانوں سے کیا ہوا وعدہ ضرور پورا ہوگا،دنیا میں آنے والا وقت امت کا ہے۔ہمیں صبر و استقامت کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔غزہ میں حماس کے مجاہدین نے ایمان کی دولت کے ساتھ اسرائیل کا مقابلہ کیا اور آج تک ڈٹے ہوئے ہیں۔حماس کے مجاہدین جنگ میں کامیاب ہوگئے ہیں۔کامیابی کو آخری نتیجے تک پہنچانے کے لیے ہمیں بہت کچھ کرنا ہوگا۔ہم دشمنوں کا مقابلہ ہر محاذ پر کریں گے۔اسلامی جمعیت طلبہ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے امت مسلمہ کے نوجوانوں کو اتحادو اتفاق کا پیغام دیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایکسپو سینٹر کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے زیراہتمام فلسطین و کشمیر اور عالم اسلام کی صورتحال پر دوروزہ انٹرنیشنل یوتھ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ شکیل احمد، منتظم اعلیٰ جمعیت طلبہ عربیہ محمد افضل، حماس کے نوجوانوں کی تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر اشرف،حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد قدومی،یمنی طلبہ یونین کے صدر محمد احمد، عراقی نوجوانوں کی نمائندہ تنظیم کے صدر بلال احمد سمیت دیگر 20 سے زائد نمائندہ نوجوان تنظیموں کے سربراہان نے بھی خطاب کیا۔ سراج الحق نے مزیدکہاکہ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ شکیل احمد اور پوری ٹیم کو شاندار کنونشن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔جو کام او آئی سی اور حکومت پاکستان کو کرنا چاہیئے تھا وہ طلبہ تنظیم جمعیت نے کیا۔پاک سرزمین پر تمام دوستوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔تحریکی بھائی جانتے ہیں کہ پاکستان خاص رنگ و نسل سے وابستہ لوگوں کا ملک نہیں ہے۔پاکستان کلمہ کی بنیاد پر وجود آیا۔پاکستان کو بنانے کے لیے لاکھوں انسانوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔پاکستان عالم اسلام کی تحریکوں کا گھر ہے۔ملکی حالات بہتر ہیں اب ہم بیرون ملک تحریکی بھائیوں سے رابطے میں رہیں گے اور دعوت دیتے رہیں گے۔مسلمان ایک جسد واحد کی مانند ہیں۔اسلحے کے مقابلے میں ایمان کی دولت آج بھی آگے ہے۔ہمارے لیے باعث اطمینان ہے کہ حماس کے رہنما خالد قدومی ہمارے درمیان موجود ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہم پونے دو ارب مسلمان ہیں، 9 سمندر تک ہماری رسائی ہے لیکن منافق حکمرانوں کی وجہ سے آج پونے دو ارب مسلمان ایک قبرستان کی طرح موجود ہیں۔74 لاکھ مسلمان افواج غزہ میں مسلمانوں کی تباہی دیکھ رہی ہے۔ہمارے حکمرانوں نے منافقت و بزدلی کا راستہ اختیار کیا ہے۔عالم اسلام کے مسلمان غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔اسرائیلی مظالم کے خلاف عالم کفر کے عوام اور ہالی ووڈ کے اداکاروں نے بھی غزہ کے مظلوم مسلمانوں کا ساتھ دیا ہے۔ہم نے ایران، ترکی کا دورہ کیا، حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں سے بھی ملاقات کی اور سوال کیاکہ کیا آپ اس لمحے کے انتظار میں ہے کہ جب فلسطین میں آخری فلسطینی بچ جائے گا۔ہم چاہتے ہیں کہ ہم ایک ہوکر یہودیوں کے خلاف جہاد کریں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے افغانستان کو دیکھا جہاں 46 ممالک نے مل کر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔افغانستان کی قوم شہادت کے لیے آمادہ تھی پوری دنیاکی افواج مل کر بھی انہیں شکست نہیں دے سکی۔آج ہم افغانستان میں روس اور امریکہ کے تباہ شدہ ٹینک دیکھتے ہیں۔ہم اسی طرح فلسطین میں بھی امریکہ اور اسرائیل کے تباہ شدہ ٹینک دیکھیں گے۔