پشاور(مانند نیوز) پشاور رنگ روڈ پر نادرا سروس سنٹر جو کہ اس وقت 24 گھنٹے سروس فراہم کر رہا ہے پر ہر وقت سائلین کا جم غفیر قومی شناختی کارڈ کی سہولت حاصل کرنے کے لیے روزانہ آتا ہے ایک اندازے کے مطابق اگر روزانہ کم از کم بھی ڈیڑھ ہزار موٹر بائک سٹینڈ کے لیے کھڑی کی جائیں تو ہر بائیک کے (زائد وصولی کی مد میں) 20 روپے کے حساب سے ٹھیکے دار 30 ہزار روپے روزانہ، مہینے کے نو لاکھ اور سالانہ ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپے ضلعی حکومت کے ٹھیکہ کی وجہ سے عوام سے وصول کر رہا ہے اور ان سے کوئی پوچھ گچھ بھی نہیں دوسرا یہ کہ ثبوت یعنی رسید بھی بائک کی واپسی پر ڈرائیور سے لے لی جاتی ہے تاکہ کوئی بھی ان کے خلاف شکایت نہ کر سکے ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپے سالانہ روپے کم از کم کے حساب سے ہیں ورنہ ابھی تک یہ علم نہیں کہ موٹرکار اور جیپ والوں سے یہ کتنے روپے زائد وصول کر رہے ہیں اور ڈیڑھ ہزار موٹرسائیکل روزانہ بھی کم سے کم تعداد کا حساب لگایا گیا ہے ان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اگر اسی طرح پورے پشاور کا حساب لگایا جائے تو پشاور میں کتنے ہی سٹینڈ ہیں اور وہ سالانہ کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے عوام اورحکومت کو ٹیکہ لگا کر اپنے گھر لے جا رہے ہیں۔