پشاور(مانند نیوز )مردان کی سول سوسائٹی اور منتخب بلدیاتی نمائندگان نے صوبائی اور وفاقی حکو مت پر زور دیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیائی ممالک کی کانفرنس کے 10 معاہدوں پرعمل کریں اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی پالیسیوں پر پائیدار ترقی کے اہداف کی روشنی میں نظرثانی کریں،اس حوالے سے مردان میں انٹیگریٹڈ ریجنل سپورٹ پروگرام اور فا نسا کے زیر اہتمام ایک سیشن کا انعقاد ہوا جس میں سول سوسائٹی،مرد و خواتین کونسلرز ااور علما ء نے شرکت کی،سیشن سے خطاب کرتے ہوئیغیر سرکاری تنظیم آئی آر ایس پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شاہ ناصر،الطاف الرحمان اور محمد اسماعیل خان نے کہا کہ اعلامیے پر تمام جنوبی ایشیائی حکومتوں نے 2018 میں ساؤتھ ایشین کانفرنس آن سینیٹیشن (SACOSAN) کے دوران دستخط کیے تھے۔غیر سرکاری تنظیم آئی آر ایس پی اور فانساکے تعاون سے ایک مرتب شدہ مطالبہ پیش کیا گیا جس میں جنوبی ایشیائی ممالک کی کامیابیوں کا زکر کیا گیا اور SACOSAN-VII کے مطابق اور واش سیکٹر کی سرمایہ کاری کے منصوبے کا جائزہ بھی شیئر کیا۔ایس اے سی او ایس اے این جنوبی ایشیائی ممالک پر مبنی فورم ہے، جس کی قیادت جنوبی ایشیائی ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن (سارک) ممالک نے اپنے اپنے متعلقہ ممالک میں نکاسی آب اور حفظان صحت کو مضبوط اور بہتر بنایا ہے جس کے نتیجہ میں اب جنوبی ایشیاء میں نکاسی آب کی سہولیات سے استفادہ کرنے والے عوام کی تعداد اور تناسب میں بہتری آئی ہے کیونکہ ان ممالک نے نکاسی آب کے لئے حکمت عملیوں اور قومی پالیسیوں پر عمل درآمد کیا۔انہوں نے کہا کہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور بحفاظت نکاسی آب نہ صرف بنیادی ضروریات زندگی ہیں بلکہ اس سے اموات کی روک تھام اور اس غذائی قلت پر قابو پانے میں بھی مدد ملتی ہے جو کہ اسہال(ڈائریا) سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی مسائل کے حل میں سول سوسائٹی کے ادارے موثر ترقی کے لئے جنوبی ایشیائی حکومتوں کی بڑے اہم طریقوں سے مدد کر سکتے ہیں۔