پبی (مانند نیوز ) اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری پی کے 89 کے امیدوار اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکر ٹری میاں افتخار حسین نے کہا کہ آج جتنے شمولیتی پروگرام ہوئے یہ ایک ریکارڈ ہے کہ ایک دن میں چودہ شمولیتی جلسے کرکے پی کے 89 کے غیور اور باغیرت پختونوں نے میرے زندگی کا ایک یادگار دن بنا دیا ہے. اتنی مصروف اور تھکا دینے والے دن میں آپ لوگوں کے جوش و خروش نے مجھے تھکاوٹ کا احساس ہی نہیں ہونے دیا جس کے لیے میں آپ کو مشکور ہوں اور امید کرتا ہوں کہ 8 فروری کو لائٹین کے نشان پر مہر آپ لوگ عوامی نیشنل پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیابی میں اپنا کردار ادا کرینگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کچہ گڑھی پبی, خدریزئی,محب بانڈہ, واپڈا ٹاؤن تاروجبہ,آمانکوٹ,گڑھی مومین,اکبر پورہ اور خوشمقام میں شمولیتی جلسوں میں سینکڑوں کی تعداد میں کارکنان نے اپنے اپنے پارٹیوں سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کے موقع پر خطاب کر تے ہو ئے کہا جس میں سب سے قابل ذکر شمولیت واپڈا ٹاؤن کے شیخ الحدیث جناب فیض الرحمان المدنی کے فرزند مولانا محمد اسامہ نے عوامی نیشنل پارٹی شمو لیت کی اور اپنے علیل والد محترم شیخ کا ایک وڈیو پیغام بحق میاں افتخار حسین کی حمایت بھی سنایا اس موقع پر عباس خان غازی نعیم قادر اور دیگر قا ئدین بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ سیاسی میدان لگا ہوا ہے کوئی اپنے مضبوط نظریے کو لیکر آپ کے پاس حاضر ہو رہے ہیں اور کوئی اپنے اقتدار میں خردبرد کرکے دولت کما کر آپ لوگوں کے ضمیر کو خریدنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں میری اطلاع کے مطابق بعض لوگوں نے تو ان کو منہ پر جواب دئیے ہیں لیکن بعض ضمیر فروشوں نے ان سے رقم لیکر اور دفاتر کھول کر اپنے قریب و جوار میں ان کاروباری سیاستدانوں کے لیے کمپین کر رہے ہیں. اس لیے میں آپ لوگوں کی وساطت یہ پیغام اپنے حلقے کے ووٹروں تک پہنچانا چاہتا ہوں کہ جن لوگوں نے ان کے لیے الیکشن آفس کھولے ہوئے ہیں ان کے کرداروں کو دیکھ کر فیصلہ کریں کہ یہ جن کے لیے ووٹ مانگ رہے ہیں وہ کیسے ہونگے. ایک طرف یہ کرپٹ سیاستدان لوگوں کو پیسوں کی لالچ دے کر اپنی کمپین چلا رہے ہیں اور دوسری طرف ہم ہیں کہ حلقے کے ووٹرز اپنے ذاتی خرچے پر الیکشن آفس بھی کھول رہے ہیں اور جلسوں کے خرچے بھی کر رہے ہیں میں نے ان سب سے زیادہ الیکشن کمپین چلایا اور دو ماہ سے مسلسل چلا رہا ہوں اور ہر ویلج کونسل میں کئی جلسے کیے جن کے سب خرچے آپ لوگوں نے برداشت کیے جس کے لیے میں آپ کا احسان مند رہوں گا. میرے مدمقابل امیدواروں کا نا کوئی نظریہ ہے اور نا ہی پارٹی سے حلف کی پاسداری جب بھی کوئی پارٹی کا ممبر شپ لیتا ہے تو ممبر شپ فارم میں اس بات کا حلف دیتا ہے کہ میں اپنی پارٹی کے آئین اور منشور کا وفادار رہونگا مگر ان لوگوں نے شائد پارٹی سے بے وفائی کا حلف دیا ہوگا اس لیے تو آئے دن پارٹیاں تبدیل کرنے میں کوئی عیب محسوس نہیں کرتے تو جو آدمی اپنی پارٹی سے بے وفائی کرتا ہے وہ ملک و قوم سے کیا وفاداری کرئیگا. سیاست دان کو محمود غزنوی کا کردار ادا کرنا چاہیے جو کہ بت شکن بنے نا کہ میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کرکے بت فروشی کو فروغ دے اور اپنے مالی وسائل میں اضافہ کرکے اپنے اولادوں کو لنڈن میں تعلیم کے لیے بھیجے اور آپ لوگوں کو تعلیم سے دور رکھ کر ذریعہ معاش کے لیے بیرون ملک مزدوری کرنے پر مجبور کرے. اس غیر نظریاتی سیاست دانوں کے خلاف ہماری پارٹی اور میں میدان میں کھڑا ہوں اگر اللہ کو منظور ہوا اور آپ لوگوں نے تعاون کیا تو آنے والا دور باچہ خان کے خدائی خدمتگاروں کا دور ہوگا اور پختون خواہ کے عوام کے روشن مستقبل کا دور ہوگاشمولیتی جلسوں سے امیدوار برائے قومی اسمبلی این اے34 میاں بابر شاہ کا کا خیل نے کہا کہ آثار بتا رہے ہیں کہ آنے والا دور عوامی نیشنل پارٹی کا ہوگا اور اس صوبے پر حکمرانی اے این پی کا مقدر ہے پورے صوبے میں ضلع نوشہرہ کی طرح عوامی نیشنل پارٹی میدان میں نظر آ رہی ہے اور چاینہ ماڈل پی ٹی آئی پی سمیت دیگر سیاسی پارٹیاں اپنے سیاسی جنازوں کا انتظار کر رہی ہے اس کی بنیادی وجہ غیر نظریاتی اور کاروباری سیاست ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور بالخصوص پختون خواہ کافی متاثر ہوئے اور عوامی حقوق کی بجائے اپنے ذاتی مفاد اور کاروبار میں اضافہ کرکے عوام سے دو وقت کی روٹی تک چھین لی.