وانا (مانند نیوز ) جنوبی وزیرستان حلقہ این اے 42 اور پی کے 109 جنوبی وزیرستان پر سرکاری ووٹوں میں دھاندلی کا خدشہ ہے، گزشتہ دنوں پولیس فورس جنوبی وزیرستان کے پکڑے گئے غلط ووٹ فارمز کو دوبارہ جمع کرانے کی کوششیں جاری ہیں، اگر دھاندلی کا پروگرام نہیں ہے تو ریٹرننگ افسران ہمیں سرکاری ووٹرز کی لسٹ یا تعداد بتائیں، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جنوبی وزیرستان اپر ایک متنازعہ شخصیت ہے وہ کسی ایک کنڈیٹ کو سپورٹ کررہا ہے جو کوئی بھی ہمارے کاروان میں شمولیت اختیار کرتاہے ڈی پی او اپر جنوبی وزیرستان انہیں ڈرانے دھمکانے کے لئے پہنچ جاتا ہے، اگر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جنوبی وزیرستان اپر کو الیکشن میں براہِ راست مداخلت اتنی ہی پسند تو نوکری چھوڑ کر میدان میں آکر الیکشن لڑیں، ان خیالات کا اظہار آزاد امیدوار ملک سعید انور محسود کے حامیوں نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر آفس کے سامنے پولیٹیکل کمپاونڈ جنوبی وزیرستان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں جنوبی وزیرستان پولیس اپر کے سرکاری ووٹ فارمز جو غلط طریقے سے بوریاں بھر کر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کے آفس لائے گئے تھے، امیدوار کے احتجاج اور سخت درعمل کے بعد ووٹ فارمز کو واپس ڈاکخانہ روانہ کیا گیا اب ہمیں خطرہ ہے کہ وہی ووٹ واپس جمع کرانے کی کوششیں جاری ہے، انہوں نے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر جنوبی وزیرستان ہمیں سرکاری ووٹ کی تعداد یا لسٹ فراہم کریں تاکہ ہمیں تسلی ہوں انہوں نے مزید کہا کہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جنوبی وزیرستان اپر براہ راست الیکشن میں مداخلت کررہا ہے، وہ ہمارے حامیوں کو ڈرانے اور دھمکانے پر اتر آیا ہے، ہم آئی جی خیبرپختونخواہ اور آر پی او ڈیرہ اسماعیل خان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جنوبی وزیرستان اپر کو فی الفور تبدیل کریں تاکہ جنوبی وزیرستان میں الیکشن صاف، شفاف اور احسن طریقے سے سر انجام ہوسکیں،