وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر حلقہ پی کے 110 سے آزاد امیدوار تاج محمد وزیر نے آج غواہ خواہ میں بڑے انتخابی جلسے کئے جن میں قبائلی عمائدین سمیت نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے تاج محمد وزیر نے کہا کہ میری یہ دلی خواہش ہے کہ لوئر وزیرستان کے بچے تعلیم کے حصول میں پیچھے نہ رہ سکے اور میں اس لئے الیکشن بھی لڑرہا ہوں تاکہ میں اپنی توانائیاں عوام کی بہتری اور علاقے میں تعلیم عام کرانے کے لئے صرف کرسکوں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں تعلیم، صحت، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں کافی پوٹینشل ہے لیکن بدقسمتی سے ماضی میں ان شعبوں پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئ ہے۔ یہاں کے بچے انتہائی ذہین ہیں اگر وہ کوالٹی تعلیم حاصل کریں تو وہ ملک اور علاقے کی خدمت کرسکتے ہیں لیکن سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی عد موجودگی کی وجہ زیادہ تر بچے اکیسویں صدی میں تعلیم سے محروم ہورہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر میں صوبائی اسمبلی کا ممبر منتخب ہوا تو سکولوں میں اساتذہ کی حاضریاں یقینی بنانے کیلئے کمیونٹی کی مشاورت کے بعد ایک جامع منصوبہ بندی بناؤں گا اور غیر فعال سکولوں اور صحت کے مراکز کی فعالیت کے لئے ہر ممکن حد جاؤنگا۔ انھوں نے کہا کہ قبائلی پٹی میں لوئر وزیرستان جیسا زرخیز خطہ نہیں ہے لیکن یہاں زراعت کے شعبہ کو نظر انداز کیا گیا اور سمال ڈیمز بنوانے کے لئے دیرپا کوششیں نہیں کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاحت کے لئے کافی پر فضاء مقامات موجود ہیں ہمیں چاہئیں کہ لوئر وزیرستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے بھی سوچیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہمارے عمائدین اس سلسلے میں کردار ادا کریں تو ہمارے علاقے سیاحت کے لئے انتہائی موزوں ہیں۔ آگر میں صوبائی اسمبلی کا ممبر منتخب ہوا تو میں قبائلی عمائدین کی مشاورت سے سیاحتی مقامات کو مطلوبہ سہولیات دلوانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہوں گا۔ سیاحت کے فروغ سے علاقے میں بے روزگاری ختم ہو جائے گی اور نوجوان منشیات کی جانب بھی مائل نہیں ہوں گے۔