شانگلہ(رپورٹ/آفتاب حسین)شانگلہ کی قومی نشست این اے11 پر الحاج سید فرین خان اور انجینئر امیر مقام کے درمیان سخت مقابلہ متوقع۔ دونوں شخصیات شانگلہ کی سیاست میں گزشتہ 22 برس سے سخت سیاسی حریف سمجھے جاتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے نشست پر ان دونوں شخصیات جبکہ صوبائی اسمبلی کے ایک نشست پر انجینئر امیر مقام کے بھائی ڈاکٹر عباد اللہ اور الحاج سید فرین کے بھتیجے صدر الرحمن ایڈوکیٹ مد مقابلہ ہیں جسکی بھی سخت مقابلہ متوقع ہیں۔ شانگلہ میں گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں ان دونوں شخصیات انجینئر امیر مقام اور الحاج سید فرین خان اپنی نوعیت کے بھرپور سیاسی مقابل ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ شانگلہ میں پاکستان پیپلز پارٹی،عوامی نیشنل پارٹی سمیت مختلف مذہبی اور سیاسی جماعت سرگرم ہیں تاہم شانگلہ میں گزشتہ 22 برسوں کے دوران انجینئر امیر مقام اور الحاج سید فرین خان مختلف پارٹیوں سے ایک دوسرے کے سخت حریف رہے ہیں تاہم ہمیشہ سے انجینئر امیر مقام اخری ٹائم میں گیم تبدیل کر کے میچ جیت جاتے ہیں تاہم اس وقت ان دونوں کو قومی وصوبائی اسمبلیوں کی نشست پر سخت مقابلہ متوقع ہیں۔ شانگلہ کے مختلف سیاسی جماعتیں جس میں عوامی نیشنل پارٹی،پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں ان دونوں پر الزامات لگا رہے ہیں کہ وہ شانگلہ میں کل عام ووٹوں کی خرید میں میں مصروف ہے وہ ایکسویٹر،کمبو پائپ،پی سی سیز اور ٹرانسفرمروں کے ذریعے شانگلہ کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں تاہم یہ دونوں رہنما ان الزامات کی تردید کرتے ہیں مگر حقیقت ان سے برعکس ہیں۔ شانگلہ میں بیشتر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کہ انجینئر امیر مقام اور الحاج سید فرین خان شانگلہ کی سیاست میں پیسوں کی ذریعے عوام تک رسائی کر رہے ہیں جو جو شانگلہ کی سیاست پر کالا دبہ ہے۔ شانگلہ میں جغرافیائی طور پر بات کی جائے تو یہاں بیشتر آبادی بالائی پہاڑی علاقوں میں ہیں جہاں پینے کے صاف پانی، پختہ سڑکیں،رابطہ پلیں، تعلیم،صحت، روزگار سمیت انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان ہے تاہم الیکشن کے دنوں میں ان پہاڑی علاقے کے لوگ پائپ اور دیگر چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں کیونکہ بعد میں یہاں سے منتخب نمائندے پانچ سال کے لیے غائب ہو جاتے ہیں۔ اس وقت شانگلہ میں کل عام پائپ کی گونجیا ہر شخص کے بازوں پر لٹکے ہوئے ہیں،مختلف بالائی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ایکسویٹر نظر آتے ہیں،کچے سڑکوں پر پی سی سیز کا بھرمار ہیں،رابطہ پلوں کی تعمیر اور مرمت ہوررہی ہیں
اور ہر طرف گاڑیوں میں کمبے اور ٹرانسفرمر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہیں جو اس بات کی واضح طور پر عکاسی کرتے ہیں۔الیکشن کے دنوں ان تمام تر صورتحال کو دیکھا جائے تو لوگ سوچتے ہیں کہ یہاں ترقی کا سفر تیزی سے جاری ہیں مگر درحقیقت یہ دھوکا ہیں اور الیکشن تک یہ سفر محدود ہے جو کہ شانگلہ میں کس حد تک پسماندگی اور یہاں بنیادی سہولیات کا فقدان کا منہ بولتا ثبوت ہیں