شانگلہ(مانند نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ء اور امیدوار پی کے30 شانگلہ تھری صدر الرحمن ایڈوکیٹ نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شانگلہ میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے اور وہ ڈاکٹرعباد پر 850 ووٹ سے زائد برتری پر تھے جبکہ حاجی سید فرین خان امیر مقام پر برتری پر تھے تاہم دھاندلی کر کے نتائج کو تبدیل کر دیا گیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پشاور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا اس موقع پر ان کے وکیلشاہ فیصل الیاس ایڈوکیٹ، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حبیب اللہ طوفان، سفیر خان اور دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صدر رحمان ایڈوکیٹ نے کہا کہ الیکشن کی رات وہ ہو جب اراوآفس پہنچے تو وہاں ان کو اٹھایا گیا اور دو دن ہمارا پتہ ہی نہیں تھا اور پھر ہمیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ صدر رحمان ایڈوکیٹ نے واضح کیا کہ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ فری اینڈفیئر الیکشن کرارہے ہیں تو دوسری طرف یہ تحریک انصاف سے اتنے ڈرے ہوئے ہیں اور ایسی سیاست شروع کی ہے وہ انتہائی گھٹیا اور غیر مناسب ہے۔ الپوری میں احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے صدر الرحمن ایڈوکیٹ نے کہا کہ ان کے ورکرز پر فائرنگ کی گئی جس میں دو نہتے ورکرز کو شہید کیا گیا۔ صدر رحمان ایڈوکیٹ نے کہا کہ مجھ پر میرے خاندان اور تحریک انصاف کے ورکرز پر دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ حاجی سید فرین انجینئر امیر مقام سے 12 ہزار کے لیڈ پر جیتے ہیں مگر ہمارے ساتھ فارم45کے تھٹ گنتی نہیں کی جارہی۔ صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 30 شانگلہ تھری پر850 پر میں جیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم اراو کے دفتر میں جاتے ہیں تو ہمیں ٹارچر کیا جاتا ہے، انتظامیہ کبھی ہمیں تھری این پی او کبھی دہشت گردی اور کبھی کار سرکار میں مداخلت پر گرفتار کرتے ہیں۔ صدر الرحمن ایڈوکیٹ نے پشاور ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شانگلہ میں ہونے والے قتلوں پرجوڈیشری انکوائری بٹھائے تاکہ آزادانہ اور شفاف انکوائری ہو سکے۔ صدر رحمان ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہمارا عدالت کے علاوہ کسی پر بھی اعتماد نہیں کیونکہ تمام تر سرکاری مشینری ایک قوت کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ عدالت کے علاوہ ہمیں کوئی انصاف نہیں دے سکتا اورہمارا مطالبہ ہے کہ شانگلہ واقع اور قیمتی جانوں کی ضیاع سمیت تمام تر معاملے پر عدالتشفاف انکوائری کی جائے۔۔