واشنگٹن(مانند نیوز ڈیسک) امریکا نے کہا ہے کہ پاکستان کو بیرونی قرضوں کے چکر سے نکلنا چاہیے، پاکستانی حکومت کو فوری معاشی صورتحال پر توجہ دینا ہو گی، پاکستان آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ کام جاری رکھے۔ میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر سے جب پوچھا گیا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے سیاسی استحکام یقینی بنانے کے سلسلے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)سے رجوع کیا ہے جبکہ پاکستان کو شدید معاشی بحران سے بچنے کے لیے مارچ میں 2ارب ڈالر کی ضرورت ہے تو آئی ایم ایف سے عمران خان کے رجوع کرنے اور انتخابی دھاندلی سے متعلق امور میں امریکا کیا سوچتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم قرضوں اور انٹرنیشنل فائنانسنگ کے منحوس چکر سے نکلنے کی پاکستانی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ امریکی ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کے حقیقی استحکام کے لیے اس کی حکومت یا معیشت کا استحکام ناگزیر ہے۔ نئی حکومت کو معاشی ترجیحات کا تعین کرکے ان پر بھرپور توجہ دینا ہوگی کیونکہ اگلے کئی سال تک پاکستانی معیشت کا مستحکم رہنا انتہائی بنیادی قومی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے پالیسیاں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہوں گی۔ میتھو ملر نے کہا کہ پاکستان کو معاشی اصلاحات یقینی بنانے کے لیے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔بحیرہ عرب میں ایرانی ساختہ ہتھیاروں کی شپمنٹ کے ساتھ چار افراد کی گرفتاری سے متعلق ایک سوال پر امریکا نے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی بھی وضاحت محکمہ انصاف کا کام ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملرسے پوچھا گیا تھا کہ پاکستانی حکام نے گرفتار کیے گئے چار افراد تک قونصلر رسائی کے لیے امریکی حکام سے جو رابطہ کیا ہے اس کا کیا بنا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جب کسی کو امریکا کے وفاقی حکام تحویل میں لیتے ہیں تب معاملات محکمہ انصاف دیکھتا ہے اور وہی قونصلر رسائی کے بارے میں حتمی فیصلہ کرتا ہے۔