وانا (مانند نیوز) ضلع جنوبی وزیرستان سرزمین پر گومل زام ڈیم کے باوجود وزیرستان میں 22 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے علاقے کے عوام کو مسائل کا سامنا ہیں۔ جنوبی وزیرستان بنیادی طور پر ایک زرعی علاقہ ہے جہاں زیادہ تر لوگ زمینداری سے وابستہ ہیں۔ یہاں پر اب کاشتکاری و شجرکاری کا موسم شروع ہے، لیکن بدقسمتی سے اس وقت علاقے میں بجلی کی بحران کی وجہ سے سب ان کی زمینیں بنجر بن رہی ہیں۔اس وقت زمینداروں کو کاشتکاری اور شجر کاری کیلئے ٹیوب ویل چلانے کیلئے موزوں بجلی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اس ظالمانہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سے ان کی کاشتکاروں کا بڑا نقصان ہوتا ہیں۔وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے حال ہی میں ایک اہم اعلان کیا ہے کہ روزہ داروں کے لیے سحری اور افطاری کے وقت تین گھنٹے مسلسل بجلی ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت دی کہ اس سے لوگوں کو روزہ رکھنے میں مدد ملے گی۔ اگر یہی بجلی بھی وزیرستان کے عوام کو مل جائے تو ان کی بڑی مدد ہوسکتی ہیں۔انضمام کے بعد وزیرستان بھی خیبرپختونخوا کا آیک ضلع ہے، صوبے کے باقی اضلاع کیطرح اس ضلعے کو بھی بنیادی حقوق ملنے چاہیئے، لہذا ہم وزیراعلٰی اور گورنر خیبرپختونخوا، ڈائریکٹر واپڈا اور حکومتی اداروں سے اپیل کرتے ہیں، کہ یہاں لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر خصوصی توجہ دیا جائے تاکہ عوام میں پہلے سے پھیلی ہوئی مایوسی کا ازالہ کیا جائے۔حکومت خیبرپختونخوا کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر تورغر ضیا ء الرحمان مروت نے میرہ گئی بازار جدباء کا دورہ کیا۔ڈپٹی کمشنر تورغر نے مذکورہ بازار میں قائم پرائس مانیٹرنگ ڈیسک کا جائزہ لیا اور اہلکاران سے بازار میں عوام کو درپیش مسائل کے حوالے سے بھی معلومات حاصل کیں۔ڈپٹی کمشنر تورغر نے مختلف دکانوں پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا اور پرائس لسٹ کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا۔ غیر معیاری اشیاء رکھنے اور فروخت کرنیوالوں پر بھاری جرمانے عائد کئے گئے۔ ڈپٹی کمشنر تورغر نے پرائس لسٹ آویزاں نہ کرنے والوں کے پر بھی جرمانے عائد کئے۔