پشاور(مانند نیوز) صوبائی محکموں کی کرپشن کو بے نقاب اور بدعنوان عناصر کے خلاف اپنے طرزکی ا نوکھی اور مستند خبریں شائع کرنا صحافی کے لیے وبال جان بن گیا۔خیبر پختون خوا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پشاور پریس کلب سمیت دیگر تمام پریس کلبوں کی قانونی حیثیت بارے حقائق منظر عام پر لانے اورصحافیوں کی آڑ میں موجود مافیا کے خلاف نبرد آزما سینئر صحافی اور داؤدزئی پریس کلب کے صدر کو ڈیرہ پریس کلب کے جنرل سیکریٹری نے ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن کو بھیجے گئے ایک شکایت میں بلیک میلر صحافی لکھ دیا۔ ڈی جی انفارمیشن کو ارسال کردہ شکایت میں جنرل سیکریٹری ڈیرہ پریس کلب محمد اقبال بھٹی نے صحافی فیاض علی نور کو بلیک میلر صحافی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پرصوبے بھر کے پریس کلبوں کے رجسٹریشن، تجدید برائے سال 2023 اور زیر التوا ء پریس کلبوں کے بارے میں ڈائریکٹر صنعت و حرفت سے تحقیقات کرنے اور رجسٹریشن بارے مکمل لسٹ منگوانے کی استدعا کی تھی۔ اس ضمن میں جب ڈیرہ پریس کلب کے جنرل سیکریٹری محمد اقبال بھٹی سے سینئر صحافی اور پریس کلب کے صدر کو بلیک میلر کہنے پر موقف لیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ وہ انھیں کسی نے بتایا تھا کہ صحافی فیاض علی نور پریس کلبوں کو بلیک میل کرتا ہے۔ تاہم ان کے پاس صحافی کو بلیک میلر ثابت کرنے کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں۔ دوسری جانب داؤدزئی پریس کلب کے کابینہ نے ڈیرہ پریس کلب کے جنرل سیکریٹری محمد اقبال بھٹی کے خلاف عدالتی کاروائی اور معزز پریس کلب کی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر ہتک عزت کا کیس دائر کرنے کی قرارداد منظور کی۔ یا د رہے کہ جنرل سیکریٹری ڈیرہ پریس کلب کے مذکورہ تحریری شکایت کی بنیاد بنا کر اسسٹنٹ پریس رجسٹرار نے صحافی کو دھکمانے اور ہراساں کرنے کا مراسلہ ارسال کیا تھا جس کے خلاف پشاور ھائی کورٹ نے حال ہی میں اسسٹنٹ پریس رجسٹرار کو عدالتی نوٹس جاری کیا تھا۔