شانگلہ(مانند نیوز) مسلم لیگ نواز خیبر پختون خواہ کے صوبائی صدر اور شانگلہ سے رکن قومی اسمبلی انجینئر امیر مقام کے فرزند سابق ضلع ناظم شانگلہ نیاز احمد خان سینٹ میں خیبر پختون خواہ کہ مسلم لیگ نواز کے جنرل نشست کے امیدوار ہیں۔ نیاز احمد خان پاکستان کے پہلے کم عمر ترین ضلع ناظم تھے اور اب وہ کامیابی کی صورت میں پاکستان کے کم عمر ترین سینیٹر ہو سکتے ہیں نیاز احمد خان2015سے2019 تک شانگلہ کے ضلع ناظم کے بطور کام کر چکے ہیں ان دور نظامت میں شانگلہ میں سیلاب اور زلزلے ائے ریکارڈ کرپشن کیے گئے اور بلدیات کے افسران سمیت ناظمین اور سیاسی ورکر گرفتار کیے تھے ا ور اب ان کے کیسز دوبارہ بھی کھل چکے ہیں۔ وہ اس وقت خیبر پختون خواہ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ خان کے بھتیجے اور انجینئر امیر مقام کے فرزند ہیں۔ نیاز احمد خان شانگلہ کے ضلع ناظم رہیں اور پی ٹی ائی دور حکومت میں بلدیاتی نظام کی تبدیلی کے بعد وہ2021میں تحصیل ناظم نظامت تحصیل چیئرمین الپوری کے لیے پاکستان مسلم لیگ نون کے امیدوار تھے تاہم ان کو بدترین شکست ہوئی تھی اور ان کے مد مقابل تحریک انصاف کے امیدواروقار احمد خان تحصیل چیئرمین الپوری منتخب ہوئے تھے جس کے بعد نیاز احمد خان سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لیتی تاہم حالیہ انتخابات میں وہ اپنے والد انجینئر امیرمقام اور چچا ڈاکٹر عباد اللہ کی انتخابی کمپین میں سامنے آئے اور اس وقت وہ پاکستان مسلم لیگ نواز خیبر پختون خواہ کے جنرل نشست کے لیے سینٹ کے امیدوار چنے گئے ہیں۔ نیاز احمد خان کی بطور جنرل نشست سے خیبر پختون خواہ کی امیدوار کے طور پر فائنل ہونے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے جہاں تنقید ہو رہی ہے وہاں پاکستان مسلم لیگ نون کے ورکرز اور سوشل میڈیا ٹیم ان کے کم عمر ترین سینیٹر امیدوار نامزد ہونے پر اپنے پارٹی کو سرا رہے ہیں جبکہ ان کے مخالفین واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ انجینئر امیر مقام اب مروسی سیاست کے پیروکار بن چکے ہیں وہ شانگلہ میں ض ضلع ناظم سے لے کر تحصیل اور ق قومی اور صوبائی نشستوں پر اپنے جانشین بٹھانے چاہتے ہیں جو شانگلہ کی سیاست کے لیے نیک شگن نہیں مانا جا رہا۔۔