شانگلہ(آفتاب حسین مانند )ملاکنڈ ڈویژن کے9 اضلاع میں مجوزہ ٹیکس کے نفاذ پر کامیاب شٹر ڈاؤن ہڑتال پر مختلف تنظیموں کا اظہار تشکر، ملاکنڈ ڈویژن کے تاجر برادری،ٹرانسپوٹرز، وکلا،صنعت کار،ہوٹلز، صحافی اور زندگی کے تمام شعبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کسٹم ایکٹ کے خلاف یکجا ہیں۔ ڈویژن بھر کے عوام کا اپنے پارلیمنٹیر زسے ممکنہ ٹیکس کے نفاذ کے خلاف سینٹ اور قومی اسمبلی میں جمع قراردادوں پر بحث کرنے اور مرکزی حکومت سے اس ڈویژن کے عوام کے تحفظات، تشویش،درینا مطالبات سے اگاہ کیا جائے۔ ڈویژن بھر کے کوئی بھی فرد اس حکومت کے کسٹم ایکٹ جیسے متنازعہ فیصلے کو مسترد کرتی ہیں ملاکنڈ ڈویژن قدرتی آفات، حادثات،ملٹنسی اور کمزور ٹریڈ کے بحث ٹیکس دینے کے متحمل نہیں۔ اس ڈویژن میں کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے اور لاکھوں کی تعداد میں افرادی قوت یہاں سے باہر مزدوری کرتا ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن کے9 اضلاع پر مشتمل علاقے انتہائی پسماندہ اور غربت زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ انتہائی پسماندہ ہے۔ سوات، چترال، باجوڑ اور دیر پر مشتمل اس ڈویژن کے لوگوں نے بے پناہ جانی ومالی قربانیاں دی ہیں اور سوات کے پاکستان میں انضمام کے وقت حکومت پاکستان سے کیے گئے وعدے کی پاسداری کی جائے جس میں حکومت پاکستان نے 100 سال کے لیے اس علاقے کو فری ٹیکس زون کا معاہدہ کر رکھا ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن میں یکم جولائی سے ٹیکس کے نفاذ کے حوالے سے مختلف چیمگویا جاری ہیں تاہم یہاں کے عوام اس قسم کے کسی بھی اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔ تاجر برادری صنعتکار اور یہاں سے تعلق رکھنے والے عوام کا واضح موقف ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کسی بھی صورت قبول نہیں اور اس کے لیے وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔مرکزی حکومت ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے ساتھ اپنے رویش میں تبدیلی لائیں اور فل فور انضمام کے وقت کئیے جانے والے وعدے کی پاسداری کرکے عوام میں پائی جانے والی بے چینی ختم کریں