خیبر (مانند نیوز) صحافی خلیل جبران آفریدی آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک، صحافی کی نعش پاک افغان شاہراہ پر رکھ کر بھر پور احتجاج کیا گیا، واقعہ کی مذمت کی گئی، حکومت،پولیس اور سیکیورٹی فورسز تحقیقات کرکے مجرموں کو کڑی سزا دیں، امن و امان پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا، صحافی برادری ملک بھر میں سوگ مناکر احتجاج کرینگے، حکومت شہید صحافی کو ایک کروڑ پیکیج اور یتیم بچوں کی کفالت اور تعلیم کی ذمہ داری اٹھائیں، امن و امان کے قیام کی ذمہ داری حکومت اور فورسز پر عائد ہوتی ہے، لوگ اپنے تحفظ کے لئے ہتھیار رکھیں گے، احتجاجی دھرنے کے موقع پر سیاسی قائدین، قومی مشران اور صحافیوں کی تقاریر۔ 18 جون رات 9 بجے کے قریب خیبر سلطان خیل کے علاقہ مزرینہ میں پہلے سے تھاک میں بیٹھے نامعلوم مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ سے قبائلی صحافی اور خیبر نیوز کا نمائندہ خلیل جبران آفریدی شہید ہوگئے مقامی لوگوں کے مطابق 2 گھنٹے صحافی زخمی حالت میں تڑپتے رہے تاہم پولیس اور سیکورٹی فورسز بروقت نہ پہنچ سکیں جس کی مذمت کی گئی بدھ کے روز 9 بجے شہید صحافی کی نعش شاہراہ پر رکھ کر احتجاج کیا گیا جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے احتجاجی دھرنے سے ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے صدر قاضی فضل اللہ شینواری، سابق ایم پی اے شفیق شیر آفریدی، اے این پی کے رہنماء شاہ حسین شینواری، جماعت اسلامی کے امیر مراد حسین آفریدی، ملک دریا خان آفریدی، ملک ماصل خان شینواری، شاکر آفریدی اور پی ٹی ایم کے رہنماء آفتاب شینواری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی خلیل جبران شھید علاقے کی مؤثر آواز تھے، سماجی اور فلاحی کاموں میں پیش پیش تھے جن کی موت سے بڑا خلاء پیدا ہوا مقررین نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور پولیس امن و امان کے قیام میں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں لہذا اب مقامی لوگ خود ہتھیار رکھ کر اپنا تحفظ کرینگے انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو علاقے کے مسائل پر دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ان کے تحفظ کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا صحافیوں کے نمائندوں نے کہا کہ بروز جمعرات پورے پاکستان میں صحافی برادری سے مظاہروں اور واقعہ کی مذمت کرنے کی اپیل کی گئی ہے تاہم جمعہ اور ہفتے کے روز ضلع خیبر کے صحافی ملکر جمرود باب خیبر پر اور لنڈی کوتل میں احتجاجی مظاہرے کرینگے جس میں قومی اور سیاسی رہنماؤں کے علاوہ عام لوگ بھی شریک ہونگے مقررین نے کہا کہ علاقے میں بدامنی کی تیسری لہر چل پڑی ہے حالات بگڑ چکے ہیں لوگ اور خاص کر صحافی غیر محفوظ ہیں تاہم حکومت ٹس سے مس بھی نہیں ہو رہی جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے انہوں نے سیکیورٹی فورسز سے پہاڑوں پر بنائے گئے مورچے ختم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ علاقے کے لوگ اب قومی اتحاد بناکر ردعمل ظاہر کرینگے لیکن اس واقعہ کو آخری واقعہ بناکر دم لینگے تاکہ دیگر لوگ اور صحافی محفوظ زندگی گزار سکے انہوں نے کہا کہ مضبوط قومی اتحاد کے بغیر اب جینا مشکل ہے اور یہ بھی کچھ مقررین نے کہا کہ علاقے کے پہاڑ معدنیات سے بھرے پڑے ہیں جن پر کسی سازش کے تحت قبضہ نہیں کرنے دینگے سیاسی قائدین نے کہا کہ اب نامعلوم ہر کسی کو معلوم ہیں جن پر ریاست نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں مقررین نے صحافیوں کے تحفظ، شہید صحافی خلیل جبران کے لئے ایک کروڑ پیکیج، بچوں کی کفالت اور مفت تعلیم دینے کا مطالبہ کیا۔ صحافی کی نماز جنازہ اور تدفین کے بعد صحافیوں نے کثیر تعداد میں مرحوم کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی.