جنوبی وزیرستان (مانند نیوز) بی ایچ یو کی بحالی میں ڈی ایچ او اپر وزیرستان شمس الرحمن داوڑ رکاوٹ، لمبا روپیہ دینے کا مطالبہ. تفصیلات کے مطابق تحصیل لدھا کے گاوں مردار الگڈ کے رہائشیوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ ہمارے گاوں کی بی ای ایچ یو عرصہ دراز سے تعمیر ہوچکی ہے لیکن اس کو فعال کرنے میں ڈی ایچ او جنوبی وزیرستان اپر شمس الرحمن داوڑ رکاوٹ بنے ہوے ہیں اور ڈھنکے کی چوٹ پر رشوت طلب کر رہے ہیں کہ اگر پیسہ دو گے تو اس کی ہینڈنگ ٹیکنگ کروں گا اور ایس این ای(SNE) اوپر منظوری کے لیئے بھیجوں گا ورنہ مزے کرو. اہلیان علاقہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ڈی ایچ او سے کئی بار درخواست کی کہ بی ایچ یو کی بلڈنگ بہت عرصہ سے تیار ہے اور اس کو اب فعال کرنا ضروری ہے تاکہ علاقہ کے عوام اس سے مستفید ہوسکیں لیکن ڈی ایچ او نے واضح الفاظ میں کہا کہ جس ٹھیکیدار نے یہ بنایا ہے اس کو میرے پاس لے او کیونکہ ہمارا ہینڈنگ ٹیکنگ پر کمیشن ہوتا ہے جس کے بغیر نہ تو میں بلڈنگ ٹیک اوور کروں گا اور نہ ہی اس کو فعال کرنے کے لیئے مزید کاروائی کروں گا. علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ ہم نے ڈی ایچ او کو بتایا کہ اس بی ایچ یو پر پہلے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے کام کیا تھا اور بعد میں شر پسندوں نے اس کو نقصان پہنچایا جس پر پاک فوج نے اپنے وسائل سے اس کی تعمیر مکمل کی اور ٹھیکیدار بھی پاک فوج کی جانب سے مقرر کیا گیا تھا تو اپ پاک فوج سے رابطہ کریں اور ٹھیکیدار کو بلوا لیں لیکن ڈی ایچ او نے ایک نہ سنی اور کہا کہ اپ لوگ ٹھیکیدار کو میرے پاس لاو گے اور اگر اس کو نہی لاسکتے تو اپ گاوں کے لوگ مجھے پیسہ دو گے اور پھر میں اس پر کاروائی کروں گا. اہلیان علاقہ نے کہا کہ اسمان منزہ کے نشیب میں واقع گاوں مرادر الگڈ اور قریبی علاقوں میں صحت کی کوئی سہولت نہی اور صحت کی سہولت کے فقدان کی وجہ سے معمولی سے معمولی مرض کے علاج کے لیئے بھی کئی میل دور لدھا مکین لے جانا پڑتا ہے. ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بی ایچ یو کو بھی مکمل ہوے کئی سال گزر گئے ہیں مگر محکمہ ہیلتھ اس کو اپنی تحویل میں نہی لے رہا اور نہ ہی سٹاف دے رہا ہے جس کی وجہ سے یہ ویران ہے اور جلد ہی عدم توجہ کی وجہ سے کھنڈرات میں تبدیل ہو جائے گا. علاقہ مکینوں کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے اس بار پی ٹی ائی کو اس امید پر ووٹ دیا کہ شاید ہماری حالت میں بھی بہتری ائے گی لیکن پی ٹی ائی کی صوبائی حکومت بھی شمس الرحمن جیسے کرپٹ لوگوں کے سامنے بے بس نظر آ رہی ہے.