پشاور (مانند نیوز)صوبائی حکومت کے احکاما ت کی روشنی میں خیبر پختونخوا ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی (ایٹا) نے پیپر بیسڈ ٹیسٹنگ کو بتدریج ختم کرکے کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ سسٹم متعارف کروانے کے لئے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہیں، جس سے ٹیسٹنگ کے عمل میں جدت، شفافیت اور سہولت کا نیا دور شروع ہوگا۔ اس سلسلے میں ایٹا جلد ہی خیبر پختونخوا کی تمام سرکاری جامعات اور کالجوں کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ اشتراک عمل کے معاہدے طے کرے گاتاکہ یہ ادارے ٹیسٹنگ سینٹرز کے طور پر خدمات فراہم کر سکیں اور ان میں موجود انفراسٹرکچر کو استعمال میں لا کر امیدواران کو ان کی نزدیک ترین مقامات پر ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس حوالے سے ورچوئل یونیورسٹی کے ساتھ ابتدائی بات چیت میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ورچوئل یونیورسٹی کے موجودہ انتظامات کو اس مقصد کے لئے استعمال میں لا یا جائے اور کمپیوٹر بیسڈ امتحانات کا آغاز کیا جائے۔ کمپیوٹر بیسڈ سسٹم میں پرچے کی تیاری کا عمل مکمل طور پر خودکار ہوگا۔ سوالات ایک بینک سے تصادفی (randomly) منتخب کیے جائیں گے، جس سے امتحان دینے والے ہر امیدوار کو مختلف ترتیب کے سوالات ملیں گے جس سے امتحان میں شفافیت برقرار رہے گی اور نقل کرنے کے خدشات کم ہوں گے۔اس نظام کے ذریعے امیدواروں کو امتحان کے فوراً بعد ہی نتیجہ معلوم ہو جائے گا جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ نتائج کے اجرا میں شفافیت اور درستگی بھی یقینی بنے گی۔ڈیٹا کی حفاظت اور ٹیسٹ کی سکیورٹی کے لئے اس جدید ترین ٹیکنالوجی میں سافٹ ویئرمبنی خفیہ کاری (encryption) کے طریقے شامل کیے گئے ہیں جبکہ امتحانی سینٹرزکی ویڈیو کے ذریعے نگرانی کا سخت نظام بھی موجود ہوگا۔ایٹا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عادل صافی کا کہنا تھا کہ کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ کے نفاذ سے نہ صرف ٹیسٹنگ کے معیار میں اضافہ ہوگا بلکہ امیدواروں کو تیز اور شفاف امتحانی نظام فراہم کیا جائے گا۔ یہ اقدام خیبر پختونخوا کے تعلیمی شعبے میں جدت کا نیا باب کھولے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ”ایٹا امیدواروں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے امتحانی نظام میں مسلسل بہتری کے لئے کوشاں ہے۔ کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ کی جانب یہ قدم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔