جمرود(مانند نیوز)ضلع خیبرٹیچرزکیلئے منعقدہ ٹریننگز میں پرائیوٹ افرادکی شمولیت اور کروڑوں روپے کی کرپشن پر محکمہ ایجوکیشن خیبر کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ذرائع ذرائع کے مطابق ضلع خیبر کے سرکاری اساتذہ کے لئے خیبرپختونخواہ کے مختلف پُرفضا ٰمقامات پر سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے زیر اہتمام ٹریننگزمنعقد کئے جاتے ہیں جنکا ابھی تک ہمارے تعلیمی نظام پر کوئی مثبت اثرات دیکھنے کو نہیں مل رہے ہیں،ان ٹریننگزپر کروڑوں روپوں کے بلز بنائے جاتے ہیں جسمیں محکمہ تعلیم کے زمہ داران برابر کے شریک ہوتے ہیں،زرائع کے مطابق حال ہی میں ایبٹ آباد میں ضلع خیبر کے سرکاری ٹیچرز کے لئے تربیتی ٹریننگ کا اہتمام کیا گیا تھا جسمیں 45 ہزار روپے فی ٹیچر کو ٹی اے ڈی اے کی مد میں ادا کی گئی ہیں، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن خیبر کے ایمانداری پر سوالات اس وقت اٹھنے لگے ہیں جب زرائع کے مطابق اس ٹریننگ میں ایسے لوگوں نے بھی شرکت کی جو ٹیچرز نہیں تھے لیکن افسوس کہ ذمہ داروں کی آنکھوں پر پٹیاں لگی ہیں یا تو آدھا ٹی اے ڈی اے ان کو ملتی ہے۔ٹریننگ کے نام پر کرپشن کا یہ سلسلہ بند کیا جائے، میٹرکولیٹ اور ایف اے پاس محترم اساتذہ موجودہ سرکاری کورس پڑھانے کے قابل نہیں ہیں انہیں عزت کے ساتھ ریٹائرمنٹ دے کر ماسٹرز اور بی ایس بیروزگار نوجوانوں کو بھرتی کئے جائیں جنکو اس قسم کے ٹریننگز کی ضرورت نہیں ہوگی۔