اورکزئی (مانند نیوز) سابقہ فاٹاضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے سابقہ پارلیمنٹیرینز کا اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ جس میں تمام نمائندوں نے صوبہ خیبر پختونخواہ, بالخصوص ضم شدہ اضلاع، خاص طور پر ضلع کرم میں سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی تمام تر توجہ امن کی بحالی کے لیے لگائیں، اورخبردار کیا کہ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو یہ تشدد جلد ہی پورے صوبے اور پوریپاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ ساتھ انہوں نے تسلیم کیا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد سابقہ فاٹا میں امن قائم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن چونکہ عملی طور پر انضمام کا عمل ابھی تک جاری ہے اور انضمام کے دوران کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے ہیں اس لیے سابقہ فاٹا کے عوام کا وفاقی حکومت پر بھی حق بنتا ہے. آگے بڑھتے ہوئے وہ اپنا تجربہ پیش کرنے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی قیادت اور سیکیورٹی قیادت سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کرم تنازعہ کے حوالے سے انہوں نے امن کے قیام کے لیے ضلع میں جاری کوششوں کی حمایت اور مضبوطی کے لیے اپنے تجربے کی پیشکش کی۔ مزیدانہوں نے اس بات کا اصرار کیا کہ مقامی لوگوں کے مسائل کا حل مزید تشدد میں نہیں بلکہ بات چیت جاری رکھنے میں ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے