پشاور( مانند نیوز) مردان میں غیر سرکاری تنظیم شرکت گاہ وومن ریسورس سنٹر کے زیر اہتمام وومن فنڈ ایشیا کے تعاون سے، مردان جاری بول اٹھو تحریک کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد کی گئی جس میں مردان سے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔ شرکا کے ساتھ شرکت گاہ کے نما ئندے سجاد سلیم نے بات کرتے ہوے کہا کہ بول اٹھو تحریک مردان کے تمام تحصیلوں میں اس وقت اپنا کام انجام دے رہا ہے عوام اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں کیونکہ یہ ایک ایسی تحریک ہے جو کہ عوامی تحریک ہے جس میں خواتین کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے اور وہ معاشرہ سازی میں اپنا کردار ادا کرنے کو آگے آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اس تحریک کی وجہ سے مردان کے تمام تحصیلوں میں کے ڈی آر سیز میں خواتین نمائندگی کررہی ہے۔ انہوں نے کم عمری کی شادی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر قانونی اور غیر شرعی عمل ہے اس کا تدارک لازمی ہے ہر سال کم عمری میں بیاہ ہوئی ہزاروں لڑکیاں زچگی کے دوران فوت ہوجاتی ہے اور اکثر طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ اگر کو ئی کم عمری کی شادی کا مرتکب ہوا تو قانون اس کو سزا دیتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں شادی کے لیے لڑکی عمر سولہ سال اور لڑکے کی عمر اٹھارہ سال مقرر کی ہے۔ میٹنگ میں شریک تمام شرکانے بول اٹھو تحریک کو مکمل طور پر سپورٹ کرنے کا عزم کیا اور کہا کہ ہم ہر فرم پر اس تحریک کو سراہیں گے۔