وانا (مانند نیوز) پاک افغان بارڈر انگوراڈا کے مقام پر احمد زئی قوم کا گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جسمیں قبائلی مشران اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جرگہ میں احمد زئی وزیر قوم نے متفقہ طور پر اس بات کا اعلان کیا کہ ویزہ اور پاسپورٹ کے ذریعے آمدورفت کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ جرگہ کے فیصلے کے مطابق برمل میں مقیم احمد زئی وزیر قوم ایک کمیٹی تشکیل دے گی جو پاسپورٹ پر آمدورفت کو روکنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ مزید برآں، یہ فیصلہ کیا گیا کہ انگور اڈہ پر قومی مذاکراتی کمیٹی آئندہ مقامی حکام کے ساتھ کوئی بھی جرگہ منعقد نہیں کرے گی، اور اس پر سختی سے پابندی ہوگی۔ جرگہ نے یہ بھی واضح کیا کہ سوائے ڈیڈ باڈی کے کیس کے، کسی بھی فرد کو پاسپورٹ پر آمدورفت کی اجازت نہیں دی جائے گی، جب تک کہ احمد زئی قوم کو ون ڈاکومنٹ رجیم سے استثنیٰ کا حق نہیں دیا جاتا۔ اگر کوئی فرد قومی اتفاق رائے کی خلاف ورزی کرے گا تو اس پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ احمد زئی قوم کے قومی، سیاسی، اور سماجی رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جو بھی افراد قوم کے مسائل کے پائیدار اور پرامن حل کے لیے اقدامات کریں گے، ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ جرگہ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ون ڈاکومنٹ رجیم کے نفاذ کے بعد قوم کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ احمد زئی قوم نے مؤقف اپنایا کہ انہیں ان کی زمینوں پر آزادانہ زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔ جرگہ میں قوم کے مطالبات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا اور کہا گیا کہ ان کے حقوق اور مسائل کے حل کے لیے عملی اور دیرپا اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔