وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ضلع کے مختلف علاقوں میں معمولاتِ زندگی مفلوج ہو گئے ہیں۔ کرفیو کے نفاذ کے باعث اعظم ورسک اور دژہ غونڈی کے بازار مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ علاقے کے عوام نے اس اقدام پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کرفیو سے امن قائم ہو سکتا تو گزشتہ بیس سالوں میں حالات بہتر ہو چکے ہوتے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرفیو اور فوجی آپریشنز سے امن نہیں آتا، بلکہ پالیسیوں میں تسلسل اور حقیقی تبدیلی ضروری ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اگر سیکیورٹی ادارے سنجیدگی سے اور خلوص نیت کے ساتھ کام کریں تو علاقے میں دیرپا امن قائم ہو سکتا ہے، لیکن بدقسمتی سے امن و امان کے قیام کو ترجیح نہیں دی جا رہی۔ ادھر ضلعی انتظامیہ نے وانا میں بھی مکمل کرفیو نافذ کر دیا ہے، جو صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک مؤثر رہے گا۔ ضلعی حکام کے مطابق زالائی سے کیڈٹ کالج وانا روڈ اور تنائی سے سروکئی جندولہ روڈ پر آمد و رفت معطل رہے گی، جبکہ وانا سے انگوراڈا اور وانا سے ٹانک جانے والے راستے کھلے رہیں گے۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر ناصر خان کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس میں شہریوں کو کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں مقامی حکام سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ کرفیو اگلی اطلاع تک نافذ العمل رہے گا۔ تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بار بار کرفیو اور فوجی اقدامات سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں اور اگر امن قائم کرنا ہے تو طاقت کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی ہوگی۔