جنوبی وزیرستان (مانند نیوز) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل جنوبی وزیرستان اپر فضل ودود نے ضلع ٹانک میں واقع ڈسٹرکٹ پریس کلب جنوبی وزیرستان اپر پر رات دو بجے نامعلوم افراد کی مدد سے حملہ کیا۔ اور صحافیوں اور عملے کو زدوکوب کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ پریس کلب جنوبی وزیرستان اپر کی دیوار گرا دی۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل فضل ودود اور جنوبی وزیرستان اپر کے تمام عملے کو لدھا کے مقام پر دفاتر قائم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی اور اس حوالے سے ڈسٹرکٹ پریس کلب جنوبی وزیرستان اپر کے صحافیوں نے اس فیصلے کو اخبارات اور میڈیا میں خصوصی کوریج دی تھی جس کی بدولت فضل ودود اس معاملے پر ڈسٹرکٹ پریس کلب جنوبی وزیرستان اپر سے سخت نالاں تھے اور انہوں نے کئی نجی محفلوں میں کہا کہ میں ڈسٹرکٹ پریس کلب جنوبی وزیرستان اپر کے صحافیوں کو سخت سبق سکھاؤں گا۔ ذرائع نے مزید دعوی کیا تھا کہ پچھلے دنوں لدھا کے مقام پر ہیڈ کوارٹر کی منتقلی کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر سلیم جان مروت اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فضل ودود کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا جس میں فضل و دودھ نے لدھا جانے سے مکمل طور پر انکار کر دیا تھا جس کے بعد ایم پی اے اور دیگر اعلٰی عسکری و حکومتی حکام کی جانب سے انہیں سخت نوٹس ملا تھا جس کے بعد ان کو بادل نخواستہ جنوبی وزیرستان لدھا جانا پڑا لیکن ایک دن لدھا میں گزارنے کے بعد وہ ایک بار پھر ٹانک میں براجمان ہو گئے اور ماضی کی طرح جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ کو ضلع ٹانک سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلانے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ پریس کلب جنوبی وزیرستان اپر کا احتجاجی دھرنا اس وقت ضلع ٹانک میں موجود اے ڈی سی دفتر کے باہر جاری ہے اور صحافیوں کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر اے ڈی سی کو جنوبی وزیرستان اپر بھیجا جائے اور پریس کلب پر حملے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف ایف ائی ار درج کی جائے۔ صحافیوں کا مزید کہنا ہے کہ سٹینو ٹو اے ڈی سی حزب اللہ جو اس وقت نہ صرف بیک وقت پانچ عہدوں پر تعینات ہے بلکہ حزب اللہ کے کیس میں روٹیشن پالیسی کو بھی جنوبی وزیرستان اپر کے اے ڈی سی ہوا میں اڑا رہے ہیں اور پچھلے ایک دہائی سے حزب اللہ اس سیٹ پر براجمان ہے۔ ڈسٹرکٹ پریس کلب جنوبی وزیرستان اپر کے صدر ملک حیات اللہ محسود نے اس موقع پر کہا کہ اے ڈی سی جنوبی وزیرستان اپر رات کے دو بجے پریس کلب پر حملہ کیا اور ان کی جانب سے مسلح جھتے نہ صرف ہمیں دھمکا رہے ہیں بلکہ ہم پر کئی دفعہ مسلسل حملہ اور بھی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ شہاب علی شاہ، اے ڈی سی جنرل فضل ودود کی جنوبی وزیرستان کے بجائے ٹانک میں موجودگی اور صحافیوں پر حملے کا نوٹس لے بصورت دیگر ہمارا احتجاج ملک گیر شکل اختیار کر لے گا۔