شانگلہ(مانند نیوز) شانگلہ پولیس اور وکلا ء کے درمیان جرگہ ناکام، وکلاء کا الپوری مین چوک اور ڈی پی او دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرے،پولیس اور انتظامیہ کے خلاف زبردست نعرہ بازی۔ایک آنا کے خاطر شانگلہ کے وکلاء کو دیوار سے لگایا جا رہا ہیں جس کی کبھی اجازت نہیں دی جائے گی شانگلہ کے وکلاء نے شانگلہ کی تعمیر و ترقی اور یہاں گرینڈ قومی جرگوں کی میزبانی کی ہیں اب ان کی تذلیل ہو رہی ہیں جو کسی صورت برداشت نہیں۔ گزشتہ ہفتے شانگلہ کے صدر مقام الپوری میں ڈیوٹی پر مامور ٹریفک پولیس اور وکلاء کے درمیان تلخ کلامی کے بعد الپوری چوک میں دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر لاتوں، گوسو اور تپڑوں کی بارش کر دی جس پر شانگلہ کے سینئر وکلا ء اور مقامی پولیس نے معاملے کو رفع دفع کر دیا تاہم رات گئے سوشل میڈیا پر پولیس اور وکلا ء کے درمیان ہونے والے جھگڑے کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی شانگلہ پولیس نے وکلاء کے خلاف الپوری میں ایف ائی ار کاٹ دیا اور وکلا ء نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر عدالتوں سے بائیکاٹ اور معاملے کو اعلی سطح پر لے جانے کی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جس کے بعد پشاورہائیکورٹ مینگورہ بینچ بار، سوات بار کونسل سمیت خیبر پختون خواہ بار کونسل اور اسلام آباد بار کونسل نے شانگلہ میں وکلا اور پولیس کے درمیان ہونے والے معمولی جھگڑے کے بعد صورتحال اور ایف ائی ار کے اندراج کے خلاف یکجا ہو گئے جس کے بعد پیر کے روز شانگلہ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئیں احتجاجی مظاہرہ اور دھرنے کی کال پر تحصیل کو نسل ممبران الپوری نے دونوں فریقین کے درمیان صلح اور راضی نامے کی کوشش کی تا ہم شانگلہ پولیس اور وکلا کی جانب سے جرگے کی کامیابی نہ ہو سکی جس کے بعد شانگلہ بار کونسل کے وکلا نے الپوری چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا جبکہ ڈی پی او شانگلہ کے دفتر کے سامنے مظاہرہ اور دھرنا دیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر وکلا کی تزلیل کی گئی اور ان کا ایک مکروہ چہرہ پیش کیا گیا جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی انہوں نے کہا کہ معاملے کو اس وقت وکلا اور پولیس نے رفع دفع کیا تھا تا ہم رات گئے وکلاء پر ایف ائی ار کا اندراج مایوس کن اور وکلا کی تذلیل ہے جو برداشت نہیں کی جائے گی شانگلہ بار اسوسی ایشن کے صدر حاجی واقف شاہ ایڈوکیٹ اور پشاورہائی کورٹ مینگورہ بینچ بارکے صدرشاہ فیصل ایڈوکیٹ ر دیگر وکلا نے بھی خطاب کیا اور وکلاکے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر خیبر پختون خواہ بار کونسل کے ذریعہ تمام معاملہ اٹھانے اور اس وقت تک عدالتوں سے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔وکلاء نے پولیس کے ساتھ آنے والے واقعے میں متنازعہ کرداراداکرنے والے اہلکاران کے خلاف فوری محکمانہ کاروائی اور ایف آئی ار درج کرنے سمیت فوری تبادلے کا مطالبہ کیا ہیں اورکہاہیں کہ یہاں کچھ لوگ اپنے اپ کو جرگہ،قانون سے بالاترسمجھتے ہیں ان کو لگام ڈالے گے۔