وانا (مانند نیوز) شکئی ڈان ڈیم کمیٹی اور قومی مشران نے ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکئی ڈان ڈیم کا منصوبہ گزشتہ دس برس سے تاخیر کا شکار ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شکئی ڈان کمیٹی کے رکن حمزہ وزیر نے بتایا کہ اس منصوبے کی ٹینڈرنگ 2014 میں ہوئی تھی، جبکہ عملی کام 2016 میں شروع کیا گیا۔ منصوبے کے لیے ایک ارب چار کروڑ روپے کی منظوری دی گئی تھی، لیکن آج تک یہ مکمل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیم کا صرف 36 فیصد کام مکمل ہوا ہے جبکہ 64 فیصد تاحال باقی ہے۔حمزہ وزیر نے کہا کہ ٹھیکیدار مختلف حیلے بہانے بنا کر کام سے گریز کر رہے ہیں اور علاقے کے عوام کو مسلسل دھوکہ دے رہے ہیں، حالانکہ فی الوقت علاقے میں حالات مکمل طور پر پُرامن ہیں اور ترقیاتی کاموں میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر ناصر خان، ایم پی اے عجب گل وزیر، ایم این اے زبیر خان وزیر، کنسلٹنٹ ڈیپارٹمنٹ اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی آمین گنڈہ پور سے مطالبہ کیا کہ شکئی ڈان ڈیم منصوبے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے کام کا آغاز کروایا جائے۔پریس کانفرنس کے دوران مولانا نعمت اللہ وزیر نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر متعلقہ حکام نے منصوبے پر پیش رفت نہ کی تو 5 تاریخ کو شکئی میں ایک گرینڈ جرگہ طلب کیا جائے گا، جس میں عدالت سے رجوع کرنے یا شکئی برگیڈ کے سامنے دھرنا دینے جیسے آپشنز پر فیصلہ کیا جائے گا۔مشران کا کہنا تھا کہ نہ صرف ڈیم بلکہ شکئی میں دیگر کئی منصوبے، جیسے ریسکیو 1122، شکئی تھانہ، ہائیر سیکنڈری اسکول اور بازار بیوٹیفکیشن بھی تاخیر کا شکار ہیں، جو انتظامیہ کی عدم دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔حمزہ وزیر نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ اور آئی جی پولیس نے جنوبی وزیرستان لوئر کا دورہ کیا تھا، تاہم ضلعی انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے شکئی کے دورے کو نظرانداز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شکئی جنوبی وزیرستان لوئر کی چوتھی تحصیل ہے اور یہاں کے عوام بھی ترقیاتی منصوبوں میں برابری کا حق رکھتے ہیں۔آخر میں مشران نے ایک بار پھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور متعلقہ محکموں سے پرزور مطالبہ کیا کہ شکئی کے عوام پر رحم کیا جائے اور ڈیم سمیت دیگر منصوبوں پر فوری طور پر کام کا آغاز کیا جائے۔اس موقع پر ملک غلام حسین، ملک گل شاہ خان، ملک غلام، ڈاکٹر نوراسلم، ملک شیرمان وزیر و دیگر موجود تھے۔