وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے کڑیکوٹ بازار میں موبائل انٹرنیٹ سروس اور ڈی ایس ایل کنکشن کی فوری بحالی کے لیے عوامی احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ لاکھوں افراد جدید دور میں بھی موبائل انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جو کہ ایک ناقابلِ قبول اور غیر منصفانہ اقدام ہے۔احتجاجی مظاہرے میں مقامی نوجوانوں کے ساتھ ساتھ سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک پُرامن اور تعلیم یافتہ آبادی کو ڈیجیٹل سہولیات سے محروم رکھنا ظلم اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ شہید موڑ پر قائم موبائل ٹاور کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور غواخوا، شین، ورسک سمیت دیگر علاقوں میں بھی نئے موبائل ٹاورز نصب کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کڑیکوٹ اور ملحقہ علاقوں میں ڈی ایس ایل سروس کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔مظاہرے کے دوران کڑیکوٹ روڈ اور وانا بازار کچھ دیر کے لیے بند رہے، جبکہ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر انٹرنیٹ سروس کی بحالی سے متعلق مطالبات درج تھے۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ کیا گیا تو اگلا احتجاج سکاوٹس کیمپ کے سامنے دھرنے کی صورت میں دیا جائے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ شہید موڑ پر واقع موبائل ٹاور کو نامعلوم افراد نے نذرِ آتش کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں پورے علاقے میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔ رکنِ قومی اسمبلی زبیر وزیر نے اس معاملے پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو باضابطہ تحریری خط بھی ارسال کیا تھا، جبکہ موبائل کمپنی کی جانب سے ٹاور کی بحالی کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی، تاہم تاحال کوئی عملی پیشرفت نہیں ہو سکی۔احتجاج کے اختتام پر مظاہرین نے ٹی ایم اے عملے کی فوری تعیناتی کا مطالبہ بھی کیا تاکہ بازار میں صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی بیوٹیفیکیشن اسکیم کے تحت تعمیراتی کام میں مسلسل تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ کڑیکوٹ بازار کو جلد از جلد پختہ کیا جائے۔