پشاور (مانند نیوز )اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ پشاور کے ناظم ارشد خان نے ادارے کی زبوں حالی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی اور قدیم درسگاہ جامعہ پشاور اس وقت شدید مالی اور انتظامی بحران کا شکار ہے،جس کے اثرات براہ راست طلبہ و طالبات کی تعلیم، فلاح و بہبود اور ذہنی صحت پر پڑ رہے ہیں۔ جامعہ میں چھ ماہ کے تعلیمی سمیسٹر کو غیر معمولی طور پر صرف دو ماہ میں مکمل کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف تدریسی عمل کے معیار کو متاثر کر رہا ہے بلکہ طلبہ کے تعلیمی حقوق پر بھی کاری ضرب ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کلاسز مختصر کر دی گئی ہیں، جبکہ اسائنمنٹس اور امتحانات کے لیے مناسب وقت نہیں دیا جا رہا، جس کے باعث طلبہ شدید تعلیمی دباؤ اور ذہنی اضطراب کا شکار ہو رہے ہیں۔ اساتذہ بھی محدود وقت میں نصاب مکمل کرنے پر مجبور ہیں، جس سے لیکچرز کی گہرائی اور سیکھنے کے مواقع بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کو درپیش مسائل صرف تعلیمی میدان تک محدود نہیں بلکہ ہاسٹلز کی حالت بھی تشویشناک ہو چکی ہے۔ ارشد خان کے مطابق کئی ہاسٹلز میں پینے کے صاف پانی کی سہولت دستیاب نہیں، جبکہ صفائی ستھرائی اور سیکیورٹی کے مسائل میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔انہوں نے حکومت، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعہ کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سمیسٹر کی مدت کو معمول کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ تعلیم کا معیار برقرار رہے۔ہاسٹلز میں بنیادی سہولیات، خاص طور پر صاف پانی اور صفائی، کو ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیا جائے۔جامعہ پشاور کے مالی و انتظامی بحران کا جامع اور دیرپا حل نکالا جائے۔تعلیم قوموں کی بنیاد ہے، اور اگر اعلیٰ تعلیمی ادارے اسی حال میں رہے تو ملک کا تعلیمی مستقبل تاریکی میں جا سکتا ہے۔